پاکستان اور بنگلہ دیش کو باہمی تجارت میں اضافے کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے،بنگلہ دیشی ہائی کمشنر

لاہور۔20مارچ (اے پی پی):بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر راہل عالم صدیق نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو باہمی تجارت میں اضافے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے اور مختلف معاشی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر میاں طارق مصباح اور نائب صدر طاہر منظور چوہدری سے لاہور چیمبرمیں ملاقات کے دوران کیا ۔ بنگلہ دیش کے اعزازی …

لاہور۔20مارچ (اے پی پی):بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر راہل عالم صدیق نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو باہمی تجارت میں اضافے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے اور مختلف معاشی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر میاں طارق مصباح اور نائب صدر طاہر منظور چوہدری سے لاہور چیمبرمیں ملاقات کے دوران کیا ۔ بنگلہ دیش کے اعزازی قونصل جنرل ہمایوں فرید بھی اس موقع پر موجود تھے۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ بنگلہ دیش پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے مابین گہرے تاریخی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف معاشی شعبوں میں باہمی تجارت کے مواقع تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی پاکستان کو نمایاں برآمدات میں جیوٹ اور چائے شامل ہیں، دونوں ممالک کو تجارت کے نئے شعبے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی چین کو برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے، اس وقت بنگلہ دیش میں تمام صنعتیں کھلی اور مکمل طور پر فعال ہیں، کرونا کی وبا نے اگرچہ نشوونما کو متاثر کیا مگر اب صورتحال دن بدن بہتر ہورہی ہے۔ ہائی کمشنر نے تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کردار کو سراہا۔اس موقع پر صدر لاہور چیمبر میاں طارق مصباح نے کہا کہ ہندوستان کے بعد، پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں اپنی معاشی حجم کے لحاظ سے سارک کے بڑے ممبر ہیں ،تاہم اس پلیٹ فارم کو موثر طریقے سے استعمال کرنا ہمارا اولین مقصد ہونا چاہیے۔

علاقائی تجارت کو بڑھانے کے لئے سارک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ، جو دوسرے معاشی بلاکس کے مقابلے میں کم ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش پاکستان کی برآمدات والے ممالک میں دسویں نمبر پر ہے جبکہ دو طرفہ تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں ہے۔ صدرلاہور چیمبر نے کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش کو کاٹن فیبرک، سیمنٹ، لیدر، ویکیوم پمپ اور دیگر ٹیکسٹائل کی مصنوعات وغیرہ کا بہت بڑا سپلائر ہے جبکہ دوسری طرف بنگلہ دیش سے درآمدات میں جیوٹ، تمباکو، کاٹن ویسٹ، چائے اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے مابین ٹیلی فونک گفتگو کے بعد جمود کا شکار تعلقات اب پگھلنے لگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دواسازی، سرجری کاسامان، تعمیراتی میٹریل، لائٹ انجینئرنگ، فوڈ پروسیسنگ، اور سیاحت جیسے شعبوں میں باہمی تجارت کے مواقع موجود ہیں، چونکہ دونوں ممالک میں ٹیکسٹائل ایک بڑا شعبہ ہے، اس میں جوائنٹ وینچرز کی کافی گنجائش موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں، پاکستان نے بنگلہ دیشی درخواست دہندگان کے ویزوں سے متعلق تمام پابندیاں ختم کردی ہیں۔ تجارت کو فروغ دینے کے لئے ڈھاکہ اور کراچی کے درمیان براہ راست پروازیں بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری ر ابطے دوبارہ قائم کرنے کے لئے کراچی سے چٹاگانگ بندرگاہوں تک براہ راست شپنگ کی سہولت بھی شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کو فعال کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ میاں طارق مصباح نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایس ایم ایز کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جو موجودہ معاشی صورتحال کی وجہ سے بری طرح متاثر ہواہے،

اس تناظر میں ہم مائیکرو کریڈٹ کے بنگلہ دیشی ماڈل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے تھے۔ میاں طارق مصباح نے کہا کہ سی پیک وسیع علاقائی رابطہ کا ایک فریم ورک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے نہ صرف چین اور پاکستان کو فائدہ ہوگا بلکہ ایران، افغانستان، ہندوستان، وسطی ایشیائی ریاستوںاور پورے خطے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ بنگلہ دیش بھی اس منصوبے کے تحت قائم کیے جانے والے خصوصی اقتصادی زون میں سرمایہ کاری کرکے اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتیجہ خیز تجارتی تعلقات قائم کرنے کے لئے، غیر تجارتی رکاوٹوں سمیت تمام امور کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ا س مقصد کےلئے دونوں ممالک کے کاروباری شعبوں کے مابین باہمی روابط مستحکم کرنے کے لئے بھرپور کوشش کرنا ہو گی۔