وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور خیبرپختونخوا آفتاب عالم نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کو تیز، شفاف، مؤثر اور آسان انصاف کی فراہمی کے لیے قانونی اصلاحات کے عمل کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہے۔
حکومت خیبر پختونخوا قانونی اصلاحات کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے،صوبائ وزیرقانون آفتاب عالم

مزید خبریں
پشاور۔ 07 جولائی (اے پی پی):خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم نے کہا ہےکہ حکومت خیبرپختونخوا عوام کو تیز، شفاف، مؤثر اور آسان انصاف کی فراہمی کے لیے قانونی اصلاحات کا عمل مسلسل آگے بڑھا رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پشاور میں منعقدہ لیجسلیٹو کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ نئے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی، ٹیکس نظام میں شفافیت، عدالتی نظام کی بہتری اور ادارہ جاتی اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں تاکہ عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی اور مؤثر نظامِ انصاف کی سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر مجوزہ قانون اور ترمیم کو آئینی، قانونی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق مکمل جانچ پڑتال کے بعد حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی قانونی پیچیدگی یا انتظامی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ قانون سازی کے ہر مرحلے میں عوامی مفاد، شفافیت، آئینی تقاضوں اور مؤثر عملدرآمد کو مقدم رکھا جائے۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا اربن غیر منقولہ جائیداد ٹیکس بل 2026، ضابطہ فوجداری (خیبرپختونخوا) ترمیمی بل 2025 اور خیبر پختونخوا سب آرڈینیٹ جوڈیشری سروس ٹریبونل ایکٹ 1991 میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں مشیر خزانہ مزمل اسلم، ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمان خیل، سیکرٹری محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس، محکمہ قانون، محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول، محکمہ خزانہ، محکمہ اسٹیبلشمنٹ، محکمہ داخلہ، ایڈووکیٹ جنرل آفس، ضلعی انتظامیہ پشاور اور دیگر متعلقہ محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا اربن غیر منقولہ جائیداد ٹیکس بل 2026 کے مختلف قانونی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ ٹیکس نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔اسی طرح ضابطہ فوجداری (خیبرپختونخوا) ترمیمی بل 2025 پر تفصیلی غور و خوض کے بعد لیجسلیٹو کمیٹی نے مجوزہ ترامیم کو حتمی شکل دے دی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس مسودہ قانون کو منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ان ترامیم سے فوجداری نظام کو مزید مؤثر، مقدمات کے جلد اور منصفانہ تصفیے کو یقینی بنانے اور عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا سب آرڈینیٹ جوڈیشری سروس ٹریبونل ایکٹ 1991 میں مجوزہ ترامیم پر بھی تفصیلی غور کیا گیا تاکہ ماتحت عدلیہ کے سروس معاملات کو مزید مؤثر، شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر استوار کیا جا سکے، جبکہ اربن غیر منقولہ جائیداد ٹیکس بل 2026 سے متعلق مختلف تجاویز اور قانونی نکات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ زیر غور تمام قانونی مسودات کو اجلاس میں پیش کی جانے والی تجاویز، قانونی آراء اور آئینی تقاضوں کی روشنی میں مزید بہتر بنایا جائے، تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل بروقت مکمل کیا جائے، مالی و انتظامی اثرات کا جامع جائزہ لیا جائے اور باقی ماندہ مسودات کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر آئندہ اجلاسوں میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ بین المحکمہ رابطے کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ قانون سازی کے عمل کو بروقت مکمل کرتے ہوئے عوامی مفاد سے متعلق اصلاحات کو جلد عملی جامہ پہنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے اپنی حتمی سفارشات اور قانونی آراء مقررہ مدت کے اندر محکمہ قانون کو ارسال کریں تاکہ زیر غور مسودات کو قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد منظوری کے لیے متعلقہ فورمز پر پیش کیا جا سکے۔








