پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان وفود کی سطح پر اجلاس

اسلام آباد ۔ 5 ستمبر (اے پی پی) پاکستان اور سعودی عرب نے توانائی کے شعبہ میں موجودہ مفاہمت کی یادداشتوں پر پیشرفت اور دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ جمعرات کو یہاں وفد کی سطح پر ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں اطراف نے 10 ارب ڈالر کی لاگت کی آئل ریفائنری کے قیام، ایک ارب …

اسلام آباد ۔ 5 ستمبر (اے پی پی) پاکستان اور سعودی عرب نے توانائی کے شعبہ میں موجودہ مفاہمت کی یادداشتوں پر پیشرفت اور دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ جمعرات کو یہاں وفد کی سطح پر ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں اطراف نے 10 ارب ڈالر کی لاگت کی آئل ریفائنری کے قیام، ایک ارب ڈالر سے پیٹروکیمیکل کمپلیکس کے منصوبے، 4 ارب ڈالر کی تخمینہ شدہ لاگت کے دو آر ایل ان جی پلانٹس کی تنصیب اور منرل ڈویلپمنٹ کے شعبہ میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے حوالہ سے رواں سال فروری میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد کےلئے کام کی رفتار بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان وفود کی سطح پر ہونے والی اس ملاقات میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے تھے جبکہ سعودی عرب کے مائننگ امور کے نائب وزیر خالد صالح المظفر اور پاکستان میں سعودی سفیر نواف سعید بن المالکی سعودی وفد کی سربراہی کر رہے تھے۔ علاوہ ازیں اجلاس میں دونوں ممالک کے تمام فریقین نے شرکت کی تاکہ آئل ریفائنری، پیٹروکیمیکلز اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے کامیاب اور بروقت آغاز کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اجلاس ایسے وقت پر بہت اہمیت کا حامل ہے جب پاکستان بین الاقوامی روڈ شوز کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ پاکستان کے تیل و گیس کے شعبوں میں ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا جا سکے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ توانائی، معدنیات اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون سے دونوں ممالک کے مابین دیرینہ تاریخی اور برادانہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی حکومت ملک کو علاقائی معاشی مرکز میں تبدیل کرنے کےلئے مکمل پرعزم اور سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مو¿خر ادائیگیوں پر تیل کی ترسیل کے انتظامات پر ہم اپنے بھائیوں کے شکرگزار ہیں۔