پاکستان اور ناروے کا تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

پاکستان اور ناروے نے تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور بحری امور سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اسلام آباد۔13اگست (اے پی پی):پاکستان اور ناروے نے تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور بحری امور سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ جمعرات کو یہاں وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے کہا کہ پاکستان اور ناروے کے درمیان دوطرفہ تجارت اس وقت دونوں ممالک کی معیشتوں کی استعداد سے کم ہے اور موثر اقدامات کے ذریعے اسے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ دورہ 2016ء کے بعد ایک دہائی میں ناروے کے کسی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ناروے کی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیش کرتا ہے اور یہ امر خوش آئند ہے کہ ناروے کی متعدد معروف کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ انہوں نے ناروے کی کمپنی یارا انٹرنیشنل اور پاکستان کی ایک مقامی کھاد کمپنی کے درمیان پلانٹ نیوٹریشن کے شعبے میں قائم کیے جانے والے مشترکہ منصوبے کو ایک مثالی منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی ’’گرم جوش، تعمیری اور جامع‘‘ بات چیت کے دوران مختلف وزارتوں کے درمیان زیر التواء متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا۔ بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ناروے کے لیے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

بحری امور میں تعاون کے حوالے سے محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دنیا میں جہازوں کی ری سائیکلنگ کی بڑی سہولیات میں سے ایک کا حامل ہے اور اس کا تزویراتی محل وقوع اسے ناروے سے آنے والے جہازوں کے لیے اس بحری خطے میں سب سے زیادہ مسابقتی اور قریب ترین جہاز ری سائیکلنگ مرکز بناتا ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ناروے نے عوامی سطح پر روابط بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پاک-ناروے پارلیمانی دوستی گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فریقین پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت کے لیے قانونی راستوں پر کام جاری رکھنے پر بھی متفق ہیں جبکہ انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی کے تدارک کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

انہوں نے ناروے کے وزیر خارجہ کو تنازعہ جموں و کشمیر سے آگاہ کیا جو طویل عرصے سے حل طلب بین الاقوامی تنازعات میں شامل ہے اور 1948ء سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے جبکہ سلامتی کونسل اس حوالے سے متعدد قراردادیں منظور کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلے سے موجود کشیدہ سکیورٹی صورتحال کو خراب کیا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا سلسلہ ختم کرے اور اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے تحت معاہدے کی پاسداری کرے۔ نائب وزیراعظم نے ناروے کے وزیر خارجہ کو امریکہ اور ایران کے تنازعہ کے حوالے سے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔

انہوں نے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہنے پر ناروے کا شکریہ ادا کیا جبکہ دونوں رہنمائوں کے درمیان علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے مسلسل رابطہ بھی برقرار رہا ہے۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے اس موقع پر ناروے میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کی خدمات کو اجاگر کیا اور ای ایف ٹی اے-پاکستان فریم ورک کے ذریعے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی حمایت کی۔ انہوں نے ایران پر اسرائیلی-امریکی حملے کے بعد امن مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور ریاستوں کا تحفظ سب کے لیے یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امن کے لیے ثالثی اور سہولت سے واقف ہونے کے ناطے میں جانتا ہوں کہ یہ کتنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ جب آپ اسلام آباد کو نہ صرف ان مذاکرات کے مقام بلکہ ان میں سہولت کاری کے مرکز کے طور پر پیش کرتے ہیں تو آپ کتنی بڑی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ذاتی طور پر، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے جو کچھ کیا ہے، وہ دنیا کے لیے اور ہمارے لیے بھی ایک حقیقی خدمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں نے علاقائی استحکام بشمول جموں و کشمیر اور افغانستان سے پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ناروے کے دونوں ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں جن میں فلسطین کے لیے دو ریاستی حل کے حوالے سے سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ کوششیں بھی شامل ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کو خارجہ پالیسی کا ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے اور پاکستان کے شدید سیلابوں سے متاثر ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے ناروے کے وزیر خارجہ نے مسلح تنازعات کے خاتمے پر زور دیا تاکہ عالمی توجہ موسمیاتی تبدیلی، قدرتی ماحول کے تحفظ، عالمی صحت اور غربت کے خاتمے جیسے مشترکہ چیلنجز کی جانب مرکوز کی جا سکے۔

 

مزید خبریں