پاکستان اور چین ”آئرن برادر “ ہیں، ہماری دوستی ناقابل تسخیر ہے، چینی قیادت سے ملاقاتیں انتہائی نتیجہ خیز اور مفید ر ہیں،وزیراعظم محمد شہباز شریف کا چائنہ گلوبل ٹیلی ویژن کو انٹرویو

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور چین کو ”آئرن برادر “ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری دوستی ناقابل تسخیر ہے، ان کی چینی قیادت سے ملاقاتیں انتہائی نتیجہ خیز اور مفید رہی ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے چین کے اپنے حالیہ دو روزہ سرکاری دورے کے دوران چائنہ گلوبل ٹیلی ویژن (سی جی ٹی این) کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور چین کو ”آئرن برادر “ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری دوستی ناقابل تسخیر ہے، ان کی چینی قیادت سے ملاقاتیں انتہائی نتیجہ خیز اور مفید رہی ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے چین کے اپنے حالیہ دو روزہ سرکاری دورے کے دوران چائنہ گلوبل ٹیلی ویژن (سی جی ٹی این) کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم آئرن برادر ہیں کیونکہ یہ دوستی ناقابل تسخیر ہے، اس دوستی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، اس دوستی میں کوئی بھی جگہ نہیں پا سکتا چاہے کچھ بھی ہو، ہم دوست رہے ہیں، ہم دوست ہیں اور ہم دوست رہیں گے۔ وزیراعظم نے چین پاکستان تعلقات کے ساتھ ساتھ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی بات کی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے عوام کی بھلائی کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے، پاکستان میں سی پیک اور کاروباری سطح پر سرمایہ کاری کو فروغ دینے ، بین الاقوامی امور سے مشترکہ طور پر نمٹنے اور چینی قیادت کی طرف سے بڑے پیمانے پر حوصلہ افزائی اور حمایت حاصل کرکے وطن واپس جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی 20 ویں قومی کانگریس کے موقع پر پہلے غیر ملکی رہنما ہونے کی حیثیت سے چینی قیادت کی دعوت پر چین کا دورہ کرنا ان کے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے آئرن برادر ہونے اور بھائی چارے کا اظہار ہے، یہ ہماری دوستی، باہمی اعتماد اور باہمی افہام و تفہیم کا اظہار کرتا ہے، ہم چینی قیادت کے اس اقدام کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اپنے دورے کے دوران انہوں نے مسلسل ملاقاتیں کیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کی چیانگ کے ساتھ ملاقاتیں سب سے زیادہ دوستانہ، نتیجہ خیز، واضح اور مفیدرہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان نے جغرافیائی سیاسی صورتحال پر بات چیت کے لئے مشاورتی عمل کو بڑھانے اور نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں ترقی اور خوشحالی لانے کے لئے بات چیت کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ وسائل اور توانائی سے نوازا ہے، کبھی توسیع پسندی کے عزائم کا اظہار نہیں کیا ، اس کے برعکس چین اور صدر شی جن پنگ کا فلسفہ عالمگیریت ، بات چیت ، خوشحالی اور ترقی کے بارے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کی پالیسی چین کا راستہ روکنا ہے ان کی پالیسی افسوسناک طور پر غلط ہے ،وہ چین کو کبھی بھی قابو میں نہیں رکھ سکیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین ایک طاقت ہے اور دنیا چین کے بغیر نہیں چل سکتی، چین پرامن ذرائع پر یقین رکھتا ہے، چینی فوج کی پیشرفت جارحیت کے لئے نہیں ہے، یہ اس کے دفاع کے لئے ہے اور بجا طور پرہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے چین اس علاقے میں کمزور رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لئے چین فوجی طور پر مضبوط ہونے کا حق رکھتا ہے۔

 

مزید خبریں