پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات محض سفارتی روابط نہیں بلکہ اعتماد، باہمی احترام، مشترکہ ترقی اور لازوال دوستی پر مبنی شراکت داری ہے،پروفیسر احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی ،اصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات محض سفارتی روابط نہیں بلکہ اعتماد، باہمی احترام، مشترکہ ترقی اور لازوال دوستی پر مبنی ایسی شراکت داری ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے

اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی ،اصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات محض سفارتی روابط نہیں بلکہ اعتماد، باہمی احترام، مشترکہ ترقی اور لازوال دوستی پر مبنی ایسی شراکت داری ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے،دونوں ممالک ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ،ان کی دوستی آج دنیا کے لیے مثالی تعلق کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان ۔چین دوستی مرکز اسلام آباد میں منعقدہ خصوصی ثقافتی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ،سیکرٹری وزارت اطلاعات اشفاق احمد خلیل ،سفارتکاروں، دانشوروں، فنکاروں، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان چین دوستی کو دنیا ’’ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط‘‘ قرار دیتی ہے، یہ محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا احترام کیا اور ہر عالمی و علاقائی چیلنج میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں میں پاک چین تعلقات نے مسلسل ترقی کی منازل طے کیں اور آج یہ جامع سٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اس دوستی کا سب سے نمایاں اور عملی اظہار ہے جس نے پاکستان میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے کھولے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک صرف سڑکوں، بجلی گھروں اور صنعتی زونز کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسا وژن ہے جو علاقائی رابطوں، اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کو فروغ دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک نے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے، صنعتی سرگرمیوں میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ گوادر پورٹ سی پیک کا تاج ہے اور مستقبل میں یہ پورے خطے کے لیے معاشی سرگرمیوں کا اہم مرکز بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خود کو علاقائی تجارت، ٹرانزٹ اور تعاون کے مرکز کے طور پر دیکھ رہا ہے جبکہ چین کے ساتھ شراکت داری اس وژن کی تکمیل میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انفراسٹرکچر اور معیشت اس شراکت داری کی مضبوط بنیاد ہیں لیکن ثقافت، فنونِ لطیفہ اور عوامی روابط پاک چین دوستی کی اصل روح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ثقافتی تبادلے دونوں اقوام کے درمیان محبت، ہم آہنگی اور اعتماد کو فروغ دیتے ہیں اور نوجوان نسلوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موسیقی، شاعری، ثقافت، روایات اور تعلیمی روابط کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی ثقافتی تقریب اسی جذبے کی عکاس ہے ۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ عالمی معیشت کا مرکز تیزی سے ایشیا کی جانب منتقل ہو رہا ہے اور ایسے وقت میں پاکستان اور چین کی شراکت داری مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی روابط اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکے ہیں، پاکستان و چین مل کر خطے میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، سی پیک، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کے تحت چین کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دے رہا ہے تاکہ جنوبی ممالک کے درمیان تعاون اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ترقی ایک مشترکہ سفر ہے نہ کہ مقابلہ آرائی کا ذریعہ۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ باہمی تعاون، احترام اور مشترکہ ترقی ہی پائیدار خوشحالی کی بنیاد ہے۔انہوں نے تقریب کے انعقاد پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزارت اطلاعات و نشریات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک–چین دوستی آنے والی نسلوں کے لیے امن، ترقی، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کی روشن علامت بنی رہے گی۔تقریب کے اختتام پر پاکستان اور چین کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی ثقافتی پروگرام بھی پیش کیے گئے جنہیں شرکا نے بے حد سراہا