اسلام آباد ۔ 23 جون (اے پی پی) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ پاکستان اور کرغزستان کے مابین پارلیمانی سطح کے خوشگوارتعلقات ہیں اور دونوں ملک دو طرفہ قریبی تعلقات سے بھی مستفید ہو رہے ہیں تاہم دونوں ملکوں کے بہترین مفاد میں اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں پارلیمنٹ ہاو¿س میں کرغزستان …
پاکستان اور کرغزستان کے مابین پارلیمانی سطح کے خوشگوارتعلقات ہیں،سلیم مانڈوی والا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 جون (اے پی پی) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ پاکستان اور کرغزستان کے مابین پارلیمانی سطح کے خوشگوارتعلقات ہیں اور دونوں ملک دو طرفہ قریبی تعلقات سے بھی مستفید ہو رہے ہیں تاہم دونوں ملکوں کے بہترین مفاد میں اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں پارلیمنٹ ہاو¿س میں کرغزستان کے پاکستان میں سفیر ایریک بیشیم بی اوف سے ملاقات کے دوران کیا جنہوں نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے یہاں ملاقات کی۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے افکار اور اہم بین الاقوامی ایشوز پر مو¿قف یکساں ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان پارلیمانی سطح پر تعاون بھی قابل تعریف ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات تاریخی ہیں اور صدیوں پرانے ورثہ پر قائم ہیں جو دونوں اقوام قدیم ثقافتی اور روحانی رشتوں میں منسلک ہیں۔ دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے دوروں کے تبادلوں نے ان دو طرفہ تعلقات کو مزید تقویت بخشی ہے تاہم تجارت اورمعیشت کے شعبوں میں تعاون کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ شاندار سیاسی تعلقات تجارت اور معیشت کے تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ دونوں ملک معدنیات کی دولت سے مالا مال ، بلند پایا ہنر مند افرادی قوت، صنعت و حرفت اور زراعت کے فروع شاندار مواقعوں کے ذریعے مشترکہ پیداوار اور سامان کی ترسیل سمیت برآمدات میں اضافے کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے جمہوریہ کرغزستان کی سپریم کونسل کے سپیکر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی اور پارلیمانی اور تجارتی وفود کے تبادلوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان روابط کو بڑھانے اور براہ راست پروازوں کے اپشن پر غور کرنےکی ضرورت پر بھی زور دیا کہ کرغزستان کے سفیر نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے بہترین مفاد میں سماجی و معاشی تعلقات کے فروغ کے لیے پارلیمانی اور عوام کے عوام کے ساتھ روابط کے فروع کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے باہمی تعلقات کے فروغ کے لیے کاروباری برادری، سیاحوں، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر مشتمل پاکستان سے کرغزستان کاروان دوستی کے اہتمام کی تجویز پیش کی ۔








