راولپنڈی۔16نومبر (اے پی پی):راولپنڈی میں پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی (پیس) کے 64ویں اجلاس میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت متعارف کی گئی حالیہ دفاعی اصلاحات کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کی جس میں پیس کے سینئر نائب صدر ایڈمرل (ر) عبدالعلیم، سیکرٹری جنرل کموڈور (ر) ارشد خان، چیف آرگنائزر عزیز احمد اعوان سمیت ملک بھر سے مسلح افواج، سیکنڈ لائن فورسز …
پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی (پیس) کا 64واں اجلاس ،حالیہ دفاعی اصلاحات کا بھرپور خیرمقدم

مزید خبریں
راولپنڈی۔16نومبر (اے پی پی):راولپنڈی میں پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی (پیس) کے 64ویں اجلاس میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت متعارف کی گئی حالیہ دفاعی اصلاحات کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کی جس میں پیس کے سینئر نائب صدر ایڈمرل (ر) عبدالعلیم، سیکرٹری جنرل کموڈور (ر) ارشد خان، چیف آرگنائزر عزیز احمد اعوان سمیت ملک بھر سے مسلح افواج، سیکنڈ لائن فورسز اور دفاعی اداروں کے ریٹائرڈ افسران و جوانوں نے شرکت کی۔ پیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ہائر ڈیفنس آرگنائزیشن میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت تھیں تاکہ ملکی دفاع کو جدید اور ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
شرکاء نے چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے کے قیام کو مشترکہ اسٹریٹجک رہنمائی، بین الافواج ہم آہنگی اور مؤثر آپریشنل تعاون کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ اجلاس میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی بھی حمایت کی گئی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ایک علیحدہ آئینی عدالت سپریم کورٹ کو بنیادی آئینی معاملات پر بہتر طور پر توجہ دینے میں مدد دے گی جبکہ عام شہریوں کے مقدمات میں تاخیر کم ہونے کے امکانات بڑھیں گے۔
خارجہ امور پر اظہار خیال کرتے ہوئے اجلاس نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ مسائل کا پرامن حل پاکستان کے قومی مفاد میں ہے جس کے لیے موثر سفارتکاری اور علاقائی دوست ممالک کی شمولیت ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی بھارت کی جانب سے پاکستان میں مبینہ دہشت گردی کی پشت پناہی کے معاملے کو عالمی سطح پر ٹھوس شواہد کے ساتھ اجاگر کرنے اور اقوام متحدہ و ایف اے ٹی ایف میں مناسب کارروائی کی سفارش کی گئی۔
ریٹائرڈ اہلکاروں کی فلاح و بہبود پر گفتگو کرتے ہوئے سوسائٹی نے کہا کہ فوجی اہلکار کم عمری میں ریٹائر ہوتے ہیں لہٰذا سرکاری اداروں میں ان کے لیے میرٹ پر مستقل کوٹہ مختص کیا جانا چاہیے۔ پیس نے پنشن کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے پیش نظر حکومت کے الگ پنشن فنڈ کے قیام کی تجویز کو سراہا جس میں حکومت اور ملازمین کی مشترکہ شراکت اور سرمایہ کاری کے ذریعے فنڈ کو خود کفیل بنانے کا مقصد شامل ہے۔








