پاکستان خطے میں کسی محاذ آرائی کا حصہ دار نہیں بنے گا، مخدوم شاہ محمود قریشی

نیویارک۔ 16جنوری(اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں کسی محاذ آرائی کا حصہ دار نہیں بنے گا۔ پاکستان قیام امن کے لئے اپنا متحرک اور مثبت کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ یہ بات انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتھریس سے ملاقات کے دوران کہی۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب …

نیویارک۔ 16جنوری(اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں کسی محاذ آرائی کا حصہ دار نہیں بنے گا۔ پاکستان قیام امن کے لئے اپنا متحرک اور مثبت کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ یہ بات انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتھریس سے ملاقات کے دوران کہی۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔ بات چیت کے دوران مشرق وسطی کی صورتحال، بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سمیت خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ ء خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کروانے کے لئے پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر کیے گئے، اپنے حالیہ دورہ ء ایران و سعودی عرب کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ یہ خطہ کسی نئی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین کو کشیدگی میں کمی لانے اور معاملات کو پر امن طریقے سے حل کرنے کے لئے، سیاسی و سفارتی ذرائع بروئے کار لانے پر آمادہ کیا جائے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس تناؤ کی کیفیت پر قابو پانے کے لئے ”اقوام متحدہ” اپنے چارٹر کی رو سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ،خطے میں کسی محاذ آرائی کا حصہ دار نہیں بنے گا لیکن قیام امن کے لئے پاکستان اپنا متحرک اور مثبت کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے۔یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوئٹرس نے قیام امن کیلئے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے تمام فریقین کو کشیدگی میں کمی لانے اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہبھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں انتہائی تشویشناک ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے 80لاکھ معصوم کشمیری ، 5اگست سے مسلسل، لامتناہی کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہذرائع ابلاغ پر مکمل پابندی اور کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کے ذریعے حقائق کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری معصوم کشمیریوں کو بھارتی جبرواستبداد سے نجات دلانے کیلئے،نتیجہ خیز اقدام اٹھائے۔وزیر خارجہ نے ، 5 اگست کے بھارتی اقدام کے بعد پاکستان اور چین کی خصوصی درخواست پر ، پانچ ماہ کے عرصے کے دوران، سلامتی کونسل کے تین اجلاسوں کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے، سیکرٹری جنرل انتونیو گوتھریس کا شکریہ ادا کیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتھریس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین کو کشیدگی سے بچنے اور تمام تصفیہ طلب امور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔