اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):حکومت پاکستان اس تاثر کی واضح تردید کرتی ہے کہ پاکستان ایک ’’غیر سرمایہ کاری کے قابل‘‘ (Un-investable) معیشت ہے۔ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سرویز اور عالمی کمپنیوں کے عملی سرمایہ کاری فیصلے اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان معاشی استحکام کے بعد بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے مرحلے میں داخل ہو چکا …
پاکستان سرمایہ کاری کے اعتماد کی بحالی اور معاشی استحکام کے بعد بحالی کے مرحلے میں داخل

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):حکومت پاکستان اس تاثر کی واضح تردید کرتی ہے کہ پاکستان ایک ’’غیر سرمایہ کاری کے قابل‘‘ (Un-investable) معیشت ہے۔ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سرویز اور عالمی کمپنیوں کے عملی سرمایہ کاری فیصلے اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان معاشی استحکام کے بعد بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، معاشی استحکام کے ثمرات ٹھوس اعداد و شمار میں نمایاں ہیں۔ افراط زر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، ترسیلات زر میں دوہرے ہندسے کی شرح سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور کرنٹ اکائونٹ بیلنس میں بہتری آئی ہے۔ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی برآمدات تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہیں جو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی عکاس ہیں۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعدادوشمار شیئر کئے ہیں جن کے مطابق سرمایہ کاری سے متعلق دعوے اور حقائق پاکستان کی سرمایہ کاری اہلیت پر اٹھائے گئے سوالات کی واضح تردید غیر ملکی سرمایہ کاروں کے عملی فیصلوں سے ہوتی ہے۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے تازہ ترین انویسٹر سینٹیمنٹ سروے کے مطابق پاکستان میں پہلے سے موجود غیر ملکی سرمایہ کاروں میں سے 73 فیصد اب پاکستان کو نئی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے موزوں سمجھتے ہیں جو پہلے 61 فیصد تھی۔ یہ سروے سرمایہ کاری کی اہلیت کا سب سے معتبر پیمانہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ان سرمایہ کاروں کی رائے پر مبنی ہے جن کا سرمایہ پہلے ہی پاکستان میں موجود ہے۔
اسی تسلسل میں عالمی سطح کی کثیرالقومی کمپنی نیسلے نے پاکستان میں 60 ملین امریکی ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد نہ صرف مقامی پیداوار میں اضافہ ہے بلکہ پاکستان کو ایک علاقائی مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز کے طور پر فروغ دینا ہے جہاں سے 26 بین الاقوامی منڈیوں کو برآمدات کی جائیں گی۔ اسی طرح سوکار جو 55 ارب ڈالر سے زائد حجم کی عالمی توانائی کمپنی ہے، نے پاکستان کے تیل و گیس شعبے میں سرمایہ کاری کو حتمی مراحل میں داخل کرنے کا اعلان کیا ہے اور پاکستان کو طویل المدتی توانائی شراکت دار قرار دیا ہے۔صنعت اور سرمایہ کاری کے رجحان سے یہ تاثر بھی حقائق کے برعکس ہے کہ سرمایہ کار پاکستان سے نکل رہے ہیں یا ڈی انڈسٹریلائزیشن تیز ہو رہی ہے۔
گزشتہ 15 سے 18 ماہ کے دوران تقریباً 20 نئے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں داخلہ لیا جبکہ کئی بڑے مقامی صنعتی اداروں نے اپنی سرگرمیوں میں توسیع کی۔ ان میں گوگل، بی وائی ڈی اور آرامکو جیسے نمایاں عالمی نام شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں جولائی تا نومبر مالی سال 2026 کے دوران 6 فیصد سال بہ سال اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو صنعتی سرگرمیوں میں بحالی کا واضح ثبوت ہے۔اسی طرح حقیقی معیشت کے دیگر اشاریے بھی مثبت رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، گاڑیوں کی فروخت میں 32 فیصد، سیمنٹ میں 10 فیصد، کھاد میں 24 فیصد، پٹرولیم مصنوعات میں 2 فیصد اور موبائل فونز کی فروخت میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔معاشی استحکام کے ٹھوس نتائج ،حکومتی معاشی استحکام کے اقدامات محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ قابل پیمائش نتائج کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔
افراط زر 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ چکا ہے۔ مالی سال 2025 میں 2.1 ارب امریکی ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ سرپلس حاصل ہوا جو 14 برس بعد پہلی بار ممکن ہوا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، امپورٹ کور دو ہفتوں سے بڑھ کر 2.6 ماہ سے زائد ہو چکا ہے جبکہ قرضہ برائے جی ڈی پی شرح 74 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد پر آ گئی ہے۔ مزید برآں پرائمری فسکل سرپلس 2.4 فیصد جی ڈی پی تک پہنچ چکا ہے اور گزشتہ دو برسوں میں دو مرتبہ سہ ماہی مالی سرپلس ریکارڈ ہوا۔مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں 1.17 ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ کسی بحران کی علامت نہیں بلکہ معاشی بحالی کے فطری عمل کا حصہ ہے۔ اسی عرصے میں ترسیلات زر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو 11 فیصد سال بہ سال اضافہ ہے۔
دسمبر 2025ء میں ٹیکنالوجی برآمدات 437 ملین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچیں جو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ درآمدات کا تقریباً 80 فیصد حصہ خام مال، درمیانی اشیاء اور سرمایہ جاتی سامان پر مشتمل ہے جو پیداواری سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ برآمدات میں مبینہ کمی کے دعوئوں کے برعکس ویلیو ایڈڈ اور مینوفیکچرنگ شعبوں میں بحالی واضح ہے۔ آئی ٹی اور آئی سی ٹی برآمدات نے دسمبر 2025ء میں 437 ملین ڈالر کی تاریخی سطح عبور کی جو پہلی بار کسی ایک ماہ میں 400 ملین ڈالر سے تجاوز ہے۔ یہ نومبر کے مقابلے میں 23 فیصد ماہ بہ ماہ اور دسمبر 2024ء کے مقابلے میں 26 فیصد سال بہ سال اضافہ ہے۔
مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں آئی سی ٹی برآمدات 2.24 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جو 20 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں اور خدماتی برآمدات میں سب سے مستحکم ستون بن چکی ہیں۔اعداد و شمار، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سرویز اور عالمی کمپنیوں کے عملی فیصلے اس امر کی واضح تردید کرتے ہیں کہ پاکستان ایک ’’غیر سرمایہ کاری کے قابل‘‘ معیشت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان معاشی استحکام کے بعد بحالی، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور منفی بیانیہ مجموعی زمینی حقائق کی درست نمائندگی نہیں کرتا۔حکومت پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ سرمایہ کار دوست اصلاحات، پالیسی تسلسل اور میکرو اکنامک استحکام کے ذریعے پاکستان کو خطے میں سرمایہ کاری، تجارت اور برآمدات کا ایک پرکشش مرکز بنایا جائے گا۔ موجودہ معاشی اشاریے اور سرمایہ کاروں کے عملی فیصلے اس امر کی واضح تردید کرتے ہیں کہ پاکستان ایک ’’غیر سرمایہ کاری کے قابل‘‘ معیشت ہے، بلکہ پاکستان اب اعتماد، بحالی اور ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔








