سلام آباد ۔ 16 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت 76 ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ ایک تاریخی اقدام ہے، ہماری درخواست پر 76 ممالک کو ریلیف ملے گا، وزیراعظم عمران خان نے پہلے ماحولیاتی تبدیلی، کرپشن اور اب قرضوں میں سہولت کے اقدام کو عالمی سطح پر کامیابی سے آگے بڑھایا، صدر ٹرمپ …
پاکستان سمیت 76 ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ ایک تاریخی اقدام ہے، ہماری درخواست پر 76 ممالک کو ریلیف ملے گا، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

مزید خبریں
سلام آباد ۔ 16 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت 76 ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ ایک تاریخی اقدام ہے، ہماری درخواست پر 76 ممالک کو ریلیف ملے گا، وزیراعظم عمران خان نے پہلے ماحولیاتی تبدیلی، کرپشن اور اب قرضوں میں سہولت کے اقدام کو عالمی سطح پر کامیابی سے آگے بڑھایا، صدر ٹرمپ کو عالمی ادارہ صحت کی گرانٹ معطل کرنے کے فیصلہ پر نظرثانی کرنی چاہئے، سوشل میڈیا پر ہندوستان کا کردار انتہائی منفی ہے، کورنٹائین میں بھی مذہبی تفریق کر دی ہے، یہ بھارت کی ہندوتوا سوچ کی عکاسی ہے۔ جمعرات کو وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ 12 تاریخ کو وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا عالمی وباءسے دنیا بھر کی معیشت متاثر ہوئی، برآمدات اور زرمبادلہ کی شرح کافی حد تک کم ہو رہی ہیں، ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر اس کے مضر اثرات بہت شدید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اس وبائی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بڑی مشکل سے 8 بلین ڈالر کا پیکیج دیا جو کہ ہماری معاشی حالت کے پیش نظر بہت بڑا تاریخی اقدام ہے، اس لیے وزیراعظم عمران خان نے عالمی دنیا سے کمزور معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے قرضوں میں سہولت کی تجویز آگے بڑھائی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے اس تجویز کو آگے بڑھانے کےلئے وزارت خارجہ میں بہت سے اجلاس کئے، ہم نے معاشی سفارتکاری کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کا آغاز کیا، ہم نے وزارت خارجہ میں ایک ورکنگ پیپر تیار کیا اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور دیگر متعلقہ وزراءکو وزارت خارجہ مدعو کیا، ان سے مشاورت کی ان کی تجاویز کو شامل کرکے وزیراعظم عمران خان سے منظوری لی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے اس حوالہ سے 30 ممالک کے وزراءخارجہ سے بات کی، 12 تاریخ کو وزیراعظم عمران خان نے اس انیشیٹیو کا آغاز کیا، ہم نے تمام اہم فورم پر خطوط لکھے۔ جی 7 اور یورپی یونین کے اجلاس میں بھی ہماری تجویز کو زیر بحث لایا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کل میری چین کے وزیر خارجہ سے اس حوالے سے تفصیلی بات ہوئی اور میں نے انہیں اعتماد میں لیا۔ جی 20 کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی اپیل کو پیش نظر رکھتے ہوئے 76 ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا جو ایک تاریخی اقدام ہے، پاکستان کو معاشی سہولت ملے گی اور پسے ہوئے غریب طبقہ کو سہولت ملے گی، وہ دیہاڑی دار طبقہ جس کیلئے وفاقی حکومت نے 144 ارب کا امدادی پیکیج دیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میری ابھی حفیظ شیخ سے ملاقات ہوئی ہے، وہ اس حوالہ سے تفصیلات سے جلد عوام کو آگاہ بھی کریں گے، میں پاکستان، ترقی پذیر ممالک اور وزیراعظم عمران خان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی کہا گیا کہ آپ اس تجویز کو ابھی آگے لے کر مت جائیں لیکن ہم نے اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اس تجویز کو آگے لے جانے کا فیصلہ کیا اور ہمیں کامیابی ملی۔ وزیراعظم عمران خان نے پہلے ماحولیاتی تبدیلی، کرپشن اور اب قرضوں میں سہولت کے انیشیٹیو کو عالمی سطح پر کامیابی سے آگے بڑھایا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری درخواست پر 76 ممالک کو ریلیف ملے گا، ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ یہ ایک گلوبل وباءہے، بھارت نے سارک کانفرنس کے انعقاد میں رکاوٹیں کھڑی کیں لیکن جب اس وبائی تناظر میں بھارت نے سارک وزراءصحت کانفرنس کی دعوت دی تو ہم اس میں شریک ہوئے اور اب ہم سارک وزراءصحت ویڈیو کانفرنس کے انعقاد کے متمنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت میں کوویڈ۔19 کے حوالہ سے ایک نیشنل کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ہم نے تمام پارٹیوں کی قیادت کو مدعو کیا اور ان سے مشاورت کی۔ انہوں نے کہا کہ این سی سی بھی ایک ایسا فورم ہے جس میں تمام صوبوں کے وزراءاعلیٰ شامل ہیں تاکہ قومی لائحہ مرتب کرکے آگے بڑھا جائے، ہم سب کو آگے لے کر چل رہے ہیں کیونکہ ہمیں بحیثیت قوم اس وباءکا مقابلہ کرنا ہے، قرضوں کی ادائیگی میں سہولت ملنے سے پوری ترقی پذیر دنیا کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ نے وبائی صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر وزارت خارجہ میں ایمرجنسی کرائسز مینجمنٹ یونٹ قائم کیا جو 24/7 کام کر رہا ہے، ہم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جلد وطن واپسی کیلئے یہ فیصلہ کیا، ہمارے پاس باہر سے آنے والے مسافروں کو ٹیسٹ کرنے اور کورنٹائین کی استعداد کار موجود نہ تھی، لہٰذا ہم نے اس کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کرنے کیلیے ایس او پیز مرتب کئے، اپنی استعداد کار میں اضافہ کیا، ابتدائی طور پر ہم نے اسلام آباد ایئر پورٹ کو کھولا اور وہاں ہمارا تجربہ کامیاب رہا لیکن وفاقی حکومت تنہا اس سے عہدہ برآ ہونے کی اہلیت نہیں کرتی لہٰذا ہم نے صوبوں سے تعاون کی درخواست کی، اب صوبوں کی طرف سے ایئرپورٹ کھولنے پر آمادگی سے صورتحال میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کل سعودی عرب سے لاہور پرواز آئی، آج ملتان ایک فلائٹ آ رہی ہے، ہم بیرونی ممالک میں موجود تبلیغی جماعت کے بھائیوں کو وطن واپس لانے کیلئے بھی اقدامات کر رہے ہیں اور میری اس حوالے سے شہریار آفریدی سے بھی تفصیلی مشاورت ہو چکی ہے، میں سیکرٹری خارجہ، جنیوا اور نیویارک میں ہمارے پی آرز، ہمارے سپیشل سیکرٹری، ڈی جی کرائسز مینجمنٹ سیل اور پوری وزارت خارجہ کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے عالمی ادارے صحت کی گرانٹ کو معطل کیا ہے، میری ذاتی رائے ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے جبکہ بہت سے عالمی رہنماو¿ں نے بھی صدر ٹرمپ سے اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے تاکہ ڈبلیو ایچ او کو اپنے فرائض سرانجام دینے میں مشکلات پیش نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ قرضوں میں ریلیف کا فائدہ عوام کو ملے گا، ہماری نیت صاف ہے اس کام میں خیانت کرنے والا اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج آئی ایم ایف کا اجلاس ہو رہا ہے ہمیں آئی ایم ایف سے اگر پیسہ ملتا ہے تو وہ بھی کوویڈ۔19 سے نمٹنے اور عوام کی فلاح کیلئے استعمال ہو گا، ہم نے چین کا دورہ چین کی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کیا کیونکہ ہم آئرن برادر ہیں۔اس کا ردعمل اس وقت سامنے آیا کہ جب ہمارے ہاں وبا پھیلی تو چین نے ہمیں ترجیحی بنیادوں پر امدادی سامان مہیا کیا، انہوں نے تجربہ کار ڈاکٹروں کی ٹیم یہاں بھجوائی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے قرضہ جات کا حجم بہت زیادہ ہے ہمیں معاشی بحالی کی ضرورت ہے ہمارا مقصد عالمی معاشی اداروں کی توجہ درکار تھی چین جی 20 کا اہم رکن ہے ان کی معاونت سے صرف پاکستان کو نہیں پوری دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو فائدہ ہوگا۔بھارت سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہندوستان کا کردار انتہائی منفی ہے انہوں نے کورنٹائین میں بھی مذہبی تفریق کر دی ہے یہ بھارت کی ہندتوا سوچ کی عکاسی ہے۔پاکستان کی سوچ مثبت تھی، ہے اور رہے گی۔ میری پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا سے گذارش ہو گی کہ وہ بھی اس معاملے کو اٹھائیں اور بھارت کے منفی رویے کو بے نقاب کریں۔ہمیں زرعی شعبے کی مشکلات کا بخوبی ادراک ہے میں اسپیلکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے زراعت کے حوالے سے اہم اجلاس طلب کیا مشاورت کی۔ انہوں نے کہا کہ اب سیّد فخر امام کو وزیراعظم نے اہم ذمہ داری سونپی ہے جو منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور ان سارے اجلاسوں میں شریک رہے ہیں انشاء اللہ زرعی شعبے میں بہتری آئے گی۔وزارت خارجہ نے یہاں افریقی ممالک کے سفرا کی کانفرنس منعقد کی جہاں پاکستان کی نمائندگی انتہائی کم تھی ہم نے وہاں اپنی رسائی بڑھانے کا فیصلہ کیا۔








