شازیہ مری نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان سندھ طاس معاہدہ کے تحت اپنے آبی حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا، شازیہ مری

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 11 جولائی (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے کہا ہے کہ ’’پانی زندگی ہے، ہتھیار نہیں‘‘ اور پاکستان اپنے ہر قطرۂ آب اور ہر آبی حق کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانا علاقائی امن اور عالمی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اپنے بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ جس طرح عالمی برادری نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے کردار ادا کیا، اسی طرح سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے بھی موثر اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کسی سیاسی رعایت کا نام نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایک لازمی اور قابلِ احترام معاہدہ ہے، جسے کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی معیشت، زراعت اور کروڑوں شہریوں کی زندگی کی شہ رگ ہے، جبکہ آبی تحفظ قومی سلامتی کا بنیادی تقاضا ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورم سے رجوع کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ دور میں مشترکہ دریاؤں پر تعاون وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے اور عالمی برادری کو سرحدی دریاؤں کو سیاسی ہتھیار بنانے کے رجحان کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کے تحفظ، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے اور جدید آبپاشی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا، جبکہ قومی آبی حقوق کے تحفظ کے لیے قومی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا موقف بالکل واضح ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کوئی ملک یکطرفہ طور پر ختم یا معطل نہیں کر سکتا اور پاکستان اپنے آبی حقوق کا دفاع قانون، سفارت کاری اور عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کو بین الاقوامی قانون، معاہدوں کے احترام اور باہمی ذمہ داریوں سے مشروط سمجھتا ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا واحد راستہ انصاف، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ آنے والی نسلوں کی امانت ہے، اسے سیاسی دباؤ یا بلیک میلنگ کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانے کے خلاف مضبوط بین الاقوامی قانونی نظام کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا نعرہ ’’مرسوں مرسوں، سندھو نہ ڈیسوں‘‘ پاکستان کے آبی حقوق، قومی وقار اور دریائے سندھ کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے۔







