پاکستان سکلز امپیکٹ بانڈ کا باضابطہ آغاز،وزارت خزانہ کی ضمانت کے تحت تین سالہ مالیاتی نظام کے پہلے ایک ارب روپے کی پائلٹ قسط کو عملی شکل دیدی گئی

اسلام آباد۔30دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے تاریخی سنگ میل کو عبورکرتے ہوئے نجی سرمائے کی مالی اعانت سے ملک کے پہلے پاکستان سکلز امپیکٹ بانڈ (پی ایس آئی بی) کا باضابطہ آغاز کر دیا ، وزارت خزانہ کی ضمانت کے تحت تین سالہ مالیاتی نظام کے پہلے ایک ارب روپے کی پائلٹ قسط کو عملی شکل دیدی گئی ہے جس کا مقصد تکنیکی ہنرکی ترقی کے وسیع اور قابل توسیع …

اسلام آباد۔30دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے تاریخی سنگ میل کو عبورکرتے ہوئے نجی سرمائے کی مالی اعانت سے ملک کے پہلے پاکستان سکلز امپیکٹ بانڈ (پی ایس آئی بی) کا باضابطہ آغاز کر دیا ، وزارت خزانہ کی ضمانت کے تحت تین سالہ مالیاتی نظام کے پہلے ایک ارب روپے کی پائلٹ قسط کو عملی شکل دیدی گئی ہے جس کا مقصد تکنیکی ہنرکی ترقی کے وسیع اور قابل توسیع پروگرام کے لیے فنڈ ز فراہم کرنا ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے منگل کو جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ امپیکٹ بانڈ ایسے قابل پیمائش نتائج کے حصول کے لیے مرتب کیا گیا ہے جن میں ہر تربیت یافتہ فرد کے لیے سرٹیفیکیشن، روزگار کا حصول اور کم از کم چھ ماہ تک ملازمت برقرار رکھنا شامل ہے۔

پی ایس آئی بی پاکستان میں سکل ڈویلپمنٹ کی مالی اعانت کے طریق کار میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کررہاہے جس کے ذریعے ان پٹ پر مبنی سرکاری اخراجات سے ہٹ کر نتائج پر مبنی، نجی شعبے کے تعاون سے سماجی سرمایہ کاری کی طرف فیصلہ کن قدم اٹھایا گیا ہے،یہ ماڈل بتدریج آئندہ اقساط میں تربیت یافتہ افراد کی تنخواہوں کے ایک معمولی حصے سے منسلک ہوگا جس سے طویل المعیاد پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے گا اور پاکستان کے آبادیاتی فائدے کو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ سرٹیفائیڈ افرادی قوت کی برآمد کے ذریعے عالمی سطح پر بھی موثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے گا۔

پاکستان سکلز امپیکٹ بانڈ کی افتتاحی تقریب میں سرمایہ کاروں اور اجراء کنندہ معاہدوں سمیت فنانسنگ دستاویزات پر دستخط بھی کیے گئے،تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے کے نمائندوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پی ایس آئی بی کو پاکستان کے وسیع تر اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے اور انسانی سرمائے کی حکمت عملی میں انقلابی قدم قرار دیا۔ انہوں نے اس دن کو تعلیم و تربیت پر مرکو ز ایک اہم لمحہ قرار دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کا آبادیاتی فائدہ اسی صورت میں حقیقت بن سکتا ہے جب ملک اپنے نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر اپ سکلنگ اور ری سکلنگ فراہم کرنے میں کامیاب ہو۔

انہوں نے کہا کہ نیوٹیک کا کردار اس وژن کا مرکز ہے اور اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان دنیا کی تیسری بڑی فری لانس کمیونٹی کاحامل ملک ہے اورعالمی سطح پر بلاک چین جیسے اعلیٰ قدر کے ڈیجیٹل سکلز کی جانب منتقلی پاکستانی نوجوانوں کے لیے بے مثال آمدنی کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پی ایس آئی بی حکو مت کی اس وسیع سٹریٹجک تبدیلی کا حصہ ہے جس کے تحت روایتی بجٹ پر مبنی سماجی اخراجات سے ہٹ کر نتائج، شواہد اور احتساب پر مبنی نظام اپنایا جا رہا ہے اور یہ ان نظاموں سے ایک واضح انحراف ہے جو مکمل طور پر سرکاری مالی وسائل پر انحصار کر رہے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ سال وزیر اعظم نے انہیں سوشل امپیکٹ فنانسنگ سے متعلق ایک کثیر فریقی کمیٹی کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی جس میں پالیسی سازوں، ترقیاتی شعبے کے ماہرین، ٹیکنالوجی پارٹنرز، بین الاقوامی تنظیموں اور مالیاتی شعبے کے ماہرین کو یکجا کیا گیا۔

اس کمیٹی نے مل کر پاکستان کا پہلا سوشل امپیکٹ فنانسنگ فریم ورک تشکیل دیا جس میں چھ قومی ترجیحی ستونوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم ستون تعلیم اور انسانی سرمایہ ہے جس کے بعد صنفی مساوات، صحت اور فلاح و بہبود، آبادی میں توازن، ماحولیاتی لچک اور غربت و نقل مکانی شامل ہیں۔ صنفی شمولیت کو پروگرام کے ڈیزائن کا مرکزی جزو قرار دیتے ہوئے وزیر ِ خزانہ نے برٹش ایشین ٹرسٹ کی زیر قیادت اس سفارش کا خیرمقدم کیا کہ پی ایس آئی بی کے تحت 40 فیصد تربیت یافتہ افراد خواتین ہوں۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خواتین کی شمولیت اور قیادت پاکستان کی معاشی سمت کے تعین میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔وزیر خزانہ نے کہاکہ وزارت خزانہ کی جانب سے ایک ارب روپے کی ضمانت ایک عمل انگیز کے طور پر فراہم کی گئی ہے جس کا مقصد نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور اس انقلابی ماڈل کے لیے اعتماد قائم کرنا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ معاونت ڈھانچہ جاتی نوعیت کی نہیں بلکہ صرف پروف آف کانسیپٹ کے طور پر ہے اور مستقبل میں ایک واضح روڈ میپ موجود ہے جس کے تحت خودمختار ضمانتوں پر انحصار کم کیا جائے گااور ادارہ جاتی وکیپیٹل مارکیٹ سرمایہ کاروں کی شرکت کے فروغ کے ذریعہ بالآخر ایسا ماڈل تشکیل دیا جائے گا جو حکو متی بیلنس شیٹ پر بوجھ ڈالے بغیر کام کرے۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اسی نوعیت کی منظم پبلک پرائیویٹ شراکت داریوں کے ذریعے پاکستان انسانی سرمایہ کی ترقی میں وسعت، اعتبار اور پائیداری حاصل کر سکتا ہے۔وزیر خزانہ نے نیوٹیک کی قیادت، پروگرام کی سٹیئرنگ کمیٹی، فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس اور بینک آف پنجاب کو اس تاریخی اقدام کو آگے بڑھانے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکو مت مہارتوں، پیداواری صلاحیت اور روزگار کو معاشی منصوبہ بندی کو ترجیح دیتی رہے گی ۔

انہوں نے نئے مالیاتی ماڈل کے ذریعے قابل پیمائش اثرات کے حصول پر اعتماد کا اظہار کیا۔قبل ازیں ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیوٹیک محمد عامر جان نے خطبہ استقبالیہ میں پی ایس آئی بی کو پاکستان کے سکل ڈویلپمنٹ کے سفر کا ایک فیصلہ کن لمحہ اور نیوٹیک کی طلب پر مبنی، نتائج پر مرکو ز سکلز ایکو سسٹم کی جانب منتقلی کا واضح ثبوت قراردیا ۔ انہوں نے گورننس، مالی شفافیت، صوبائی ہم آہنگی اور صنعت سے روابط میں کی جانے والی وسیع اصلاحات کو اجاگر کیا اور کہا کہ نیوٹیک نے مہارتوں کی تربیت کو متنوع اقدامات کے بجائے انسانی سرمایہ میں ایک سٹریٹجک سرمایہ کاری کے طور پر ازسرنو متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم،خصوصی سرمایہ کاری سہولت کو نسل(ایس آئی ایف سی) کی قیادت، پلاننگ کمیشن، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کے تعاون کرنے والوں بشمول بینک آف پنجاب، برٹش ایشین ٹرسٹ اور ای وائی کا پی ایس آئی بی کے اجرا میں کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسے ’’بہتر پاکستان اور بہتر مستقبل‘‘ کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے اور قومی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عزم، ہم آہنگی اور سوچے سمجھے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بالخصوص ایف سی ڈی اور برٹش ایشین ٹرسٹ سمیت پاکستان کے ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود نے پی ایس آئی بی اور پاکستان میں ابھرتے ہوئے سوشل امپیکٹ فنانسنگ منظرنامے میں اس کے کردار کا سٹریٹجک جائزہ پیش کیا۔

وائس چیئرپرسن برٹش ایشین ٹرسٹ آصف رنگون والا نے پروگرام مینجر کے طور پر ٹرسٹ کے کردار پر روشنی ڈالی ،پاکستان میں برطانیہ کی ڈپٹی ہائی کمشنر نے ایف سی ڈی کی شراکت داری اور پاکستان کی مہارتوں اور روزگار سے متعلق ایجنڈے کے لیے طویل المدتی عزم کے حوالہ سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نیوٹیک کی چیئرپرسن گل مینہ بلال احمد نے اختتامی کلمات اور ووٹ آف تھینکس پیش کرتے ہوئے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان سکلز امپیکٹ بانڈ کے تحت نوجوانوں پر مرکوز، قابل پیمائش نتائج کی فراہمی کے لیے نیوٹیک کے عزم کا اعادہ کیا۔