پاکستان عالمی سطح پر نوجوانوں کی ترقی اور با اختیار بنانے میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، رانا مشہود احمد خان

کو الا لمپور۔17نومبر (اے پی پی):وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر نوجوانوں کی ترقی اور با اختیار بنانے میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان ایک پرامن، خوشحال اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے والے دولتِ مشترکہ کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ بھرپور تعاون کے لیے پرعزم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کودسویں کامن ویلتھ …

کو الا لمپور۔17نومبر (اے پی پی):وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر نوجوانوں کی ترقی اور با اختیار بنانے میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان ایک پرامن، خوشحال اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے والے دولتِ مشترکہ کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ بھرپور تعاون کے لیے پرعزم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کودسویں کامن ویلتھ یوتھ منسٹرئیل ٹاسک فورس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں پاکستان کی نوجوانوں کی ترقی کے لیے عالمی سطح پر قائدانہ حیثیت کو اجاگر کیا۔

اجلاس انٹرنیشنل یوتھ سینٹر کوالالمپور میں منعقد ہواجہاں چیئرمین نے ورچوئل شرکت کی جبکہ پاکستانی وفد بالمشافہ شریک ہوا۔اپنے خطاب میں چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے 56 رکن ممالک میں نوجوانوں کی ترقی کے لیے کامن ویلتھ سیکرٹریٹ کی مستقل کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے لندن میں ہونے والی دسویں کامن ویلتھ یوتھ منسٹرز میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس نوجوانوں کے لیے اعلی اہداف دولت مشترکہ کے نوجوانوں کے لئے زیادہ موثر خدمات کی فراہمی کے وژن کو مزید تقویت دیتا ہے۔ٹاسک فورس کے شریک چیئرمین کے طور پر انہوں نے کہا کہ سی وائی ایم ٹی ایف ایک بنیادی پلیٹ فارم ہے جو مارلبرو ہاؤس کمٹمنٹس، سی وائی ایم ایم کے فیصلوں اور سی ایچ او جی ایم کی نوجوانوں سے متعلق قراردادوں کو عملی اقدامات اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرتا ہے۔

انہوں نے "کامن ویلتھ یئر آف یوتھ(2023–2024) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان صرف پالیسیوں کے مستفید ہونے والے نہیں بلکہ مستقبل کے حقیقی شراکت دار ہیں۔چیئرمین نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت پاکستان کی نوجوانوں کی تعلیم، روزگار، کاروبار، ماحولیات اور شمولیت کے حوالے سے اقدامات کو نمایاں کیا اور کہا کہ نوجوانوں پر سرمایہ کاری ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔انہوں نے دولتِ مشترکہ کی ترجیحات جیسے کہ ڈیجیٹل تقسیم کا خاتمہ، ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی، گورننس میں نوجوانوں کی شمولیت، موسمیاتی عمل، اور نوجوانوں کی قیادت میں ماحولیاتی اقدامات کے فروغ پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے یوتھ ورک کی پروفیشنلائزیشن اور نان فارمل لرننگ کے مواقع بڑھانے کی سفارش کی۔

مزید برآں، انہوں نے سارک، آسیان، کیریکوم، افریقی یونین اور پیسیفک کمیونٹی سمیت علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔انہوں نے سی اے وائی اے یوتھ سمٹ اسلام آباد 2025 کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 12 ممالک کے مندوبین کی شرکت سے نیشنل یوتھ کونسل کا قیام، سی اے وائی اے سیکرٹریٹ کا پاکستان میں قیام اور اسلام آباد یوتھ ڈیکلریشن کی منظوری جیسے اہم نتائج سامنے آئے۔کامن ویلتھ سیکرٹریٹ کے اسٹریٹجک پلان 2025–2030 پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کہ کامن ویلتھ یوتھ پروگرام نوجوانوں کی قیادت میں سرگرمیوں کے لیے مرکزی سیکرٹریٹ کے طور پر کام جاری رکھے۔

انہوں نے بتایا کہ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی نمائندگان امنہ بتول ایم این اے، اور ڈاکٹر محمد علی اجلاس کے دوران ان نکات پر مزید روشنی ڈالیں گے۔ آخرمیں چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے 1.6 بلین کامن ویلتھ نوجوانوں کے لیے بامعنی مواقع پیدا کرنے کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ پاکستان ایک پرامن، خوشحال اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے والے دولتِ مشترکہ کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ بھرپور تعاون کے لیے پرعزم ہے۔