اسلام آباد۔29مارچ (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی کشیدگی اور عالمی جنگی خدشات کے باوجود مضبوط معاشی استحکام، بہتر ہوتے میکرو اکنامک اشاریوں اور فعال سفارتی کردار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔اتوار کوسماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی تنازعات میں ایک اہم سفارتی پل کے طور پر ابھر رہا ہے اور …
پاکستان عالمی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام اور سفارتی سرگرمیوں میں پیش رفت کر رہا ہے،خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔29مارچ (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی کشیدگی اور عالمی جنگی خدشات کے باوجود مضبوط معاشی استحکام، بہتر ہوتے میکرو اکنامک اشاریوں اور فعال سفارتی کردار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔اتوار کوسماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی تنازعات میں ایک اہم سفارتی پل کے طور پر ابھر رہا ہے اور امریکہ، ایران اور خلیجی تعاون کونسل کے ساتھ روابط کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے درمیان جائزہ کامیاب رہا ہے، پروگرام درست سمت میں گامزن ہے اور اصلاحات مثبت نتائج دے رہی ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل 33 ہفتوں سے بڑھتے ہوئے تقریباً 21.7 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو چار سال کی بلند ترین سطح ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ رسائی میں اضافہ کیا گیا ہےجس سے علاقائی استحکام کو تقویت ملی ہے جبکہ عالمی رکاوٹوں کے باوجود ایندھن کے ذخائر بھی بہتر ہو کر چار ہفتوں کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خود کو ایشیائی تجارتی راہداریوں کے ایک اہم گیٹ وے کے طور پر دوبارہ منوا رہا ہے، جہاں بندرگاہیں اور رابطہ کاری عالمی تجارتی بہاؤ میں تبدیلیوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں،ملک نے ایک سال کی بلند ترین سطح کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بھی حاصل کیا ہے۔صنعتی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بڑے پیمانے کی صنعت میں ماہانہ بنیاد پر 12.1 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 10.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی سات ماہ میں مجموعی شرح نمو 5.8 فیصد رہی، جس میں آٹو موبائل، سیمنٹ، گارمنٹس اور پیٹرولیم کے شعبے نمایاں رہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی تاریخی نیلامی بھی ہوئی جس سے 500ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد اور ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے۔خرم شہزاد نے بتایا کہ عالمی اور مقامی سرمایہ کاروں نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلانات کیے ہیں، جن میں VEON، Nestlé، SOCAR سمیت دیگر جبکہ نئے سرمایہ کاروں میں گوگل، بی وائی ڈی، آرامکو، اے ڈی پورٹس اور مشرق بینک شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ترسیلات زر 11 فیصد اضافے کے ساتھ 8 ماہ میں 26.5 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں اور مالی سال کے اختتام تک 41 بلین ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے جبکہ آئی ٹی برآمدات 20 فیصد اضافے کے ساتھ 3 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اور 4 ارب ڈالر سے بڑھنے کی توقع ہے۔انہوں نے Ipsos کے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی اعتماد میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور ملک کے درست سمت میں جانے کے تاثر میں 12 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان کے معاشی اشاریے، سفارتی روابط اور سرمایہ کاروں کا بڑھتا اعتماد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک بیرونی چیلنجز کے باوجود مثبت سمت میں گامزن ہے۔








