ابوظہبی۔11جنوری (اے پی پی):وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی و رکنِ قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم نے کہا ہےکہ پاکستان عوامی سطح پر تیز ی سے قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقل ہو رہا ہے، ملک 2030 تک پاور مکس میں 60 فیصد قابلِ تجدید توانائی کا ہدف حاصل کرلے گا ۔اتوار کو16ویں انٹرنیشنل رینیو ایبل انرجی ایجنسی ( آئی آر ای این اے) اسمبلی میں پاکستان کا موقف پیش …
پاکستان عوامی سطح پر تیز ی سے قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقل ہو رہا ہے، ملک 2030 تک پاور مکس میں 60 فیصد قابلِ تجدید توانائی کا ہدف حاصل کرلے گا ،رومینہ خورشید عالم

مزید خبریں
ابوظہبی۔11جنوری (اے پی پی):وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی و رکنِ قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم نے کہا ہےکہ پاکستان عوامی سطح پر تیز ی سے قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقل ہو رہا ہے، ملک 2030 تک پاور مکس میں 60 فیصد قابلِ تجدید توانائی کا ہدف حاصل کرلے گا ۔اتوار کو16ویں انٹرنیشنل رینیو ایبل انرجی ایجنسی ( آئی آر ای این اے) اسمبلی میں پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئےانہوں نےکہاکہ پاکستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی شمسی توانائی کی مارکیٹس میں سے ایک کے طور پر ابھرا ہے، جہاں 2025 کے اختتام پر 12 گیگاواٹ آف گرڈ جبکہ 6 گیگاواٹ نیٹ میٹرڈ سولر کی صلاحیت موجود ہے۔
گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی کی مجموعی پیداوار میں قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ تاریخی طور پر 53 فیصد رہا ہے ۔نچلے طبقے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے براہِ راست اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں پنجاب سولر پینل سکیم 2026 جیسے منصوبے شامل ہیں جن کے تحت کم آمدنی والے گھرانوں کو مفت یا رعایتی سولر سسٹمز فراہم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے 2030 تک پاور مکس میں 60 فیصد قابلِ تجدید توانائی شامل کرنے کے ہدف سے متعلق عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم شدہ سولر کٹس کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی اور روزگار کوتحفظ دینے میں مدد ملی ہے جو موسمیاتی لچک میں اضافہ کا ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے۔
انہوں نے انٹرنیشنل رینیو ایبل انرجی ایجنسی اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے رعایتی مالی وسائل میں اضافہ کیا جائے، توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجیز اور گرین ہائیڈروجن کو عالمی عوامی اثاثہ سمجھا جائے اور مشترکہ توانائی تحفظ کے لیے علاقائی تعاون کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیرس معاہدے سے مکمل طور پر وابستہ ہے اور ایک مضبوط، جامع اور کم کاربن مستقبل کی تعمیر کے لیےانٹرنیشنل رینیو ایبل انرجی ایجنسی سے تکنیکی اور مالی معاونت کاخواہاں ہے۔








