پاکستان قومی کیمیکل گورننس میں بہتری اور خطرناک کیمیکلز کے محفوظ ہینڈلنگ کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے، نازیہ زیب علی

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جوائنٹ سیکرٹری (انٹرنیشنل کوآپریشن) نازیہ زیب علی نے کہا ہے کہ پاکستان کیمیائی مادوں کے محفوظ انتظام، قومی کیمیکل گورننس میں بہتری اور خطرناک کیمیکلز کے محفوظ ہینڈلنگ کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے۔بدھ کوگلوبلی ہارمونائزڈ سسٹم آف کلاسفی کیشن اینڈ لیبلنگ آف کیمیکلز کے نفاذ میں توسیع سے متعلق کیپیسٹی بلڈنگ انسیپشن …

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جوائنٹ سیکرٹری (انٹرنیشنل کوآپریشن) نازیہ زیب علی نے کہا ہے کہ پاکستان کیمیائی مادوں کے محفوظ انتظام، قومی کیمیکل گورننس میں بہتری اور خطرناک کیمیکلز کے محفوظ ہینڈلنگ کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے۔بدھ کوگلوبلی ہارمونائزڈ سسٹم آف کلاسفی کیشن اینڈ لیبلنگ آف کیمیکلز کے نفاذ میں توسیع سے متعلق کیپیسٹی بلڈنگ انسیپشن ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نازیہ زیب علی جو گلوبل فریم ورک آن کیمیکلز کی نیشنل فوکل پرسن بھی ہیں نے کہا کہ حکومت اپنے قومی و بین الاقوامی ماحولیاتی فرائض کی ادائیگی کے لیے پُرعزم ہےجن میں بیسل، روٹرڈیم، اسٹاک ہوم، میناماتا، ویانا اور مونٹریال کنونشنز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام کنونشنز انسانی صحت اور ماحول کو خطرناک کیمیکلز اور آلودگی سے بچانے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور موثر ریگولیشن کے ذریعے کام کرتے ہیں۔نازیہ زیب علی کا مزید کہنا تھا کہ جی ایچ ایس ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ نظام ہے جو کیمیائی خطرات کی درجہ بندی اور ان کی معلومات کو لیبلز، پکٹوگرامز اور سیفٹی ڈیٹا شیٹس کے ذریعے واضح اور معیاری انداز میں فراہم کرتا ہےتاکہ کارکنوں، صارفین اور مقامی برادریوں کو کیمیکلز سے متعلق خطرات کے بارے میں درست اور یکساں معلومات مل سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے قومی سطح پر کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن میں نیشنل ہیزرڈس ویسٹ مینجمنٹ پالیسی 2022 اور اس کے امپلی منٹیشن پلان کے علاوہ مستقبل میں مجوزہ اقدامات جیسے نیشنل کیمیکلز مینجمنٹ پالیسی، کیمیکلز کنٹرول ایکٹ اور خطرناک کیمیکلز و فضلے کے لیے خصوصی ڈائریکٹوریٹ کا قیام شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے انسانی صحت اور ماحول کو کیمیکلز کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے پاکستان کے عزم کا واضح اظہار ہیں۔یو این آئی ٹی اے آر کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی مختلف ایجنسیوں اور وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے اشتراک سے منعقدہ اس ورکشاپ کا مقصد جی ایچ ایس سے متعلق موجودہ قوانین کا جائزہ لینا، تکنیکی پہلوؤں کی تربیت فراہم کرنا، زرعی شعبے، ورک پلیسز اور صارفین کی مصنوعات میں ضروریات کا جائزہ لینا اور ایک قومی روڈ میپ کی تیاری کا آغاز کرنا ہے،

جس میں ذمہ داریاں، اہداف اور کیپیسٹی بلڈنگ کے تقاضے شامل ہوں گے۔یو این آئی ٹی اے آر کے سینئر پروگرام سپیشلسٹ اولیور ووٹن نے کہا کہ جی ایچ ایس کیمیکلز کے محفوظ استعمال کی بنیاد ہے۔ لیبلز اور سیفٹی ڈیٹا شیٹس کے ذریعے خطرات کی واضح معلومات فراہم کرنا اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ کیمیکلز محفوظ طریقے سے استعمال ہوں اور انسانی صحت و ماحول کا تحفظ ہو۔حکام کے مطابق یہ اقدام سپلائی چینز میں کیمیکل مینجمنٹ کو بہتر بنانے، کام کی جگہوں پر حفاظت بڑھانے، بین الاقوامی معیارات پر عملدرآمد میں معاونت فراہم کرنے اور پاکستان کے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد دے گا۔

وزارت نےیو این آئی ٹی اے آر کی مسلسل شراکت داری کو سراہا اور تمام سٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا جو ملک میں ایک محفوظ اور ہم آہنگ کیمیکلز مینجمنٹ سسٹم کے قیام کے لیے کام کر رہے ہیں۔ماحولیاتی اور موسمیاتی پالیسی حمایت کے ماہر اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے میڈیا ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا کہ جی ایچ ایس اور دیگر بین الاقوامی کیمیکل کنونشنز کے مؤثر نفاذ کے لیے عوامی اور ادارہ جاتی آگاہی نہایت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ کیمیکلز سے متعلق خطرات کم کرنے کے لیے باخبر کارکن، کسان، صنعتوں کے عملے اور ریگولیٹرز بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ "زیادہ آگاہی، واضح لیبلنگ اور عالمی حفاظتی معیارات پر بہتر عملدرآمد حادثات کی روک تھام اور کمیونٹیز کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔

محمد سلیم شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ بیسل، روٹرڈیم، اسٹاک ہوم، میناماتا، ویانا اور مونٹریال کنونشنز پاکستان کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ فریم ورک فراہم کرتے ہیں، جن کے ذریعے کیمیکل گورننس بہتر کی جا سکتی ہے اور ماحولیاتی و صحت عامہ پر اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مؤثر رسائی، خطرات سے متعلق جامع رابطہ کاری اور ملک گیر کیپیسٹی بلڈنگ کام کی جگہوں، زراعت اور صارفین کی منڈیوں میں کیمیکل سیفٹی کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اگر آگاہی اور عوامی فہم میں اضافہ نہ ہوا تو کیمیکلز سے متعلق چیلنجز کا سامنا کرنا اور ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام مشکل ہو جائے گی۔

مزید خبریں