اسلام آباد ۔ 14 ستمبر (اے پی پی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نظر ثانی درخواست میں اٹھائے گئے اعتراضات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور توقع ہے کہ انصاف ہوتا دکھائی دے گا۔جمعرات کو سپریم کورٹ کے سامنے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن اور وزیر اعظم کے مشیر …
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں انوشہ رحمن اور بیرسٹر ظفر اللہ کی پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 ستمبر (اے پی پی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نظر ثانی درخواست میں اٹھائے گئے اعتراضات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور توقع ہے کہ انصاف ہوتا دکھائی دے گا۔جمعرات کو سپریم کورٹ کے سامنے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن اور وزیر اعظم کے مشیر بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہاکہ ہم نے نظر ثانی درخواست میں مختلف نکات پیش کئے ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے اور قوم سپریم کورٹ کی جانب سے انصاف کی منتظر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ انسانی تاریخ میں منفرد دیا گیا ۔ ہم نے اپنا نقطہ نظر قانونی طریقے سے پیش کیا اور عدالت کو چاہیے کہ وہ اس پر غور کرے۔ انوشہ رحمن نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ انصاف کی فراہمی کے لئے اہم ہے اور اس کے پاس نظر ثانی کے اختیارات ہیں۔ ہم نے سپریم کورٹ کے دائرہ کار کو بھی چیلنج نہیں کیا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ نواز شریف قصور وار نہیں تھے تاہم ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ اثاثوں کی مختلف تعریفیں ہیں اور اس کیس میں اثاثوں کی وہ تعریف کی گئی جو نواز شریف کے خلاف تھی۔ ہو سکتا ہے اس تعریف کو مناسب سمجھ لیاگیا ہو۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف کو اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا تاہم ایک منتخب نمائندے کی نااہلی کسی بھی کیس کا طے شدہ طریقہ کار نہیں ہے ، انتخابی قوانین موجودہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انتخابی ٹربیونل بھی ہیں ۔








