اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت سید عمران احمد شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں غربت کے خاتمے کے اقدامات میں توسیع کرتے ہوئے 39 ارب روپے کی لاگت سے نیا پاورٹی گریجویشن منصوبہ شروع کیا جارہا ہے ، یہ منصوبہ 2026 سے 2029 تک جاری رہے گا اور اس منصوبے کو ملک کے 25 اضلاع میں نافذ کیا جائے گا۔ جمعرات کو جاری بیان کےمطابق …
پاکستان میں غربت کے خاتمے کے اقدامات میں توسیع کرتے ہوئے 39 ارب روپے کی لاگت سے نیا پاورٹی گریجویشن منصوبہ شروع کیا جارہا ہے ، وفاقی وزیر تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت سید عمران احمد شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں غربت کے خاتمے کے اقدامات میں توسیع کرتے ہوئے 39 ارب روپے کی لاگت سے نیا پاورٹی گریجویشن منصوبہ شروع کیا جارہا ہے ، یہ منصوبہ 2026 سے 2029 تک جاری رہے گا اور اس منصوبے کو ملک کے 25 اضلاع میں نافذ کیا جائے گا۔ جمعرات کو جاری بیان کےمطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ منصوبے کو مکمل شفافیت اور احتساب کے ساتھ نافذ کیا جائے گا،منصوبے پر عملدرآمد کی نگرانی آزادانہ جانچ، آڈٹس، شکایات کے ازالے کے نظام کے ذریعے کی جائے گی۔
سید عمران احمد شاہ نے کہا کہ وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ نے امداد کی فراہمی کے نظام میں شفافیت کے فروغ کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن میں مستحق خاندانوں کی نقد امداد سے پائیدار روزگار کی جانب منتقلی کے پروگراموں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ نے نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام چاروں صوبوں کے 21 پسماندہ اضلاع میں کامیابی سے مکمل کیا ہے،پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی نقد معاونت سے باعزت اور پائیدار ذریعہ معاش کی طرف منتقل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کے نتیجے میں ایک لاکھ 79 ہزار نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ،نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کے نتیجے میں 96 ہزار خاندان مستقل بنیادوں پر غربت سے نکل آئے۔
عمران احمد شاہ نے کہا کہ پروگرام کے تحت مستحقین کو پیداواری اثاثے، بلاسود قرضے، ذریعۂ معاش کی تربیت اور مختلف ہنر فراہم کیے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے ادارہ شماریات پاکستان کے تعاون سے سماجی تحفظ کا ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بھی تیار کیا ہے،ڈیش بورڈ سے وفاقی اور صوبائی سطح پر سماجی تحفظ کے تمام اقدامات کی رپورٹنگ، شفافیت اور شواہد پر مبنی فیصلوں کو بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کے ماتحت اداروں نے بھی اصلاحاتی ایجنڈے اور شفافیت کے فروغ کیلئے اقدامات کیے ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کوریج بڑھا کر ایک کروڑ خاندانوں تک پہنچا دی گئی ہے،جاری ڈائنامک رجسٹری سروے کے نتیجے میں مالی بہتری کی بنیاد پر 40 لاکھ خاندان کفالت پروگرام سے نکل چکے ہیں اوربے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام میں 36 لاکھ نئے اہل خاندانوں کو شامل کیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کے تحت ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگیاں شروع کر دی گئی ہیں ، ڈیجیٹل ادائیگیوں سے شفافیت میں اضافہ، رقوم کے ضیاع میں کمی اور ادائیگیاں بروقت ممکن ہوئیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال نے بھی انفرادی مالی معاونت کے نظام کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے،بیت المال نے یتیموں، خواتین، معذور افراد اور مزدوروں کے لیے امداد میں بھی اضافہ کیا ہے،بیت المال میں احتساب کا نظام مزید مضبوط بنانے کے لیے بایومیٹرک ادائیگیوں کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اصلاحات کے نتیجے میں سماجی تحفظ کے نظام میں قابلِ تصدیق نتائج سامنے آئے ہیں،اصلاحات سے عوام کا اعتماد مضبوط ہوا ہے ، غریب اور کمزور خاندانوں کو وقار، شفافیت اور احتساب کے ساتھ معاونت فراہم کی جا رہی ہے،آئندہ بھی اقدامات کو مزید وسعت دینے ، مستحق افراد تک جامع سہولتیں پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔








