اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا کہ پاکستان میں قومی یک جہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے یکساں قومی نصاب اہم سنگ میل ہے، 16 دسمبر کا دن 1971 کے سقوط ڈھاکہ کے ساتھ پشاور کے واقعہ کی وجہ سے بھی ہمارے لئے انتہائی دل خراش ہے۔ بدھ کو وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں منعقدہ قومی ہم …
پاکستان میں قومی یک جہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے یکساں قومی نصاب اہم سنگ میل ہے،وفاقی وزیر شفقت محمود کا قومی سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا کہ پاکستان میں قومی یک جہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے یکساں قومی نصاب اہم سنگ میل ہے، 16 دسمبر کا دن 1971 کے سقوط ڈھاکہ کے ساتھ پشاور کے واقعہ کی وجہ سے بھی ہمارے لئے انتہائی دل خراش ہے۔ بدھ کو وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں منعقدہ قومی ہم آہنگی اور اتحاد کے لئے پاکستان میں ایک نئے قومی بیانیے کی ضرورت پر قومی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے. سیمینار کا اہتمام پیغام پاکستان کے حوالے سے کیا گیا تھا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ 16دسمبر کا دن ہمیں جھنجھوڑتا ہے، اس دن ہمارا ملک دو اندہوناک واقعات سے گزرا، ہم1971 کے 16دسمبر کیساتھ پشاور کے واقعہ کو بھی یاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کیوں پیش آئے اسکی وجوہات ہمیں معلوم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں یہ انکی وجہ سے ہے جو ہم آرام سے راتوں کو سوتے ہیں. پاک فوج خراج تحسین کے مستحق ہیں. آج کا دن تکلیفدہ دنوں کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت کچھ ہم نے سیکھا ہے اور جو سیکھ چکے ہیں اس پر عمل درآمد کرانا ہے، ہم نے سیکھا ہے کہ دشمنوں کو مواقع نہیں فراہم کرنے چاہیے کہ ہمارا نقصان ہو، 1971 میں دشمن نے ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی کمزوریوں اور دراڑوں کی طرف نظر ڈالنی ہے کہ دشمن کو موقع نہ ملے، ہم نے دہشت گردی کے ساتھ ساتھ بیانیے کی جنگ بھی جیتنی ہے. انہوں نے کہا کہ بہت سی کمزوریاں ہمارے نظام میں ہے مگر جمہوریت کے ذریعے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے. وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ تعلیم کے مختلف نظام کی وجہ سے ہم بکھرے ہوئے ہیں. ہم نےتین قسم کے نظام تعلیم میں آنکھ کھولی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری تعلیم مختلف ہے تو ہم دنیا کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں.ہماری کہانی ایک ہونے کا مطلب ہے ہمارے ہیروز ایک جیسے ہونے چائیے. ہماری تاریخ ایک جیسی اور ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سوچ، نظریے اور بیانہ کی طاقت پاکستان کوروشن کر دے گی. پیغام پاکستان ہمارے دلوں پر اثر انداز بھی ہوتا ہے اور جھنجوڑتا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے ہی دن ایک سانحہ کی صورت میں ہماری قوم دولخت ہو گئی۔ ان دونوں واقعات میں کچھ تلخ حقیقتیں ہیں۔








