اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر داتو محمد اظہر مزلان نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد کا دورہ کیا۔ ہائی کمشنر کے ہمراہ کونسلر محمد سیافک فردوس بن حسب اللہ اور ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری مسٹر محمد زولسری بن روسدی بھی تھے۔پیر کو یہاں جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق نمل یونیورسٹی آمد پر ان کا استقبال نمل کے ریکٹر میجر جنرل …
پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر داتو محمد اظہر مزلان کانیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کا دورہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر داتو محمد اظہر مزلان نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد کا دورہ کیا۔ ہائی کمشنر کے ہمراہ کونسلر محمد سیافک فردوس بن حسب اللہ اور ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری مسٹر محمد زولسری بن روسدی بھی تھے۔پیر کو یہاں جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق نمل یونیورسٹی آمد پر ان کا استقبال نمل کے ریکٹر میجر جنرل (ر) شاہد محمود کیانی ایچ آئی (ایم) نے کیا۔ ملائیشیا کے ہائی کمشنر نے سیشن سے شرکت کی جس میں طلباء اور فیکلٹی کے ساتھ ملائیشیا کی ترقی کی رفتار اور پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ سیشن میں فیکلٹی ممبران، سٹاف اور طلباء کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اپنے خطاب میں سفیر داتو اظہر نے ملائیشیا کی تاریخی ترقی کا ایک جامع جائزہ پیش کیا اور ملائیشیا و پاکستان کے مابین مضبوط اور دیرینہ دوطرفہ تعلقات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے ملائیشیا کے اہم اقتصادی شعبوں بشمول پام آئل، سیمی کنڈکٹرز، ایرو اسپیس اور حلال صنعت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا جبکہ ملک کی مستحکم اقتصادی پیشرفت اور تنوع پر روشنی ڈالی۔
ملائیشین ہائی کمشنر نے 2025 میں آسیان کے چیئر کے طور پر ملائیشیا کے کردار کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے ملائیشیا کے خطے میں کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینے اور شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم پر زور دیا۔ملائیشیا کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے، سفیر داتو اظہر نے ملائیشیا کے تکنیکی تعاون پروگرام (ایم ٹی سی پی) کی طرف توجہ مبذول کروائی، جو کہ صلاحیت کی تعمیر اور ترقیاتی تعاون میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ تقریباً 800 پاکستانی حکام ملائیشیا میں ایم ٹی سی پی کورسز سے مستفید ہوئے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہائی کمشنر نے پاکستانی طلباء کو ملائشیا میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا کی یونیورسٹیاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تعلیمی معیارات اور ایک سازگار تعلیمی ماحول پیش کرتی ہیں۔ 2026 تک، تقریباً 7,000 پاکستانی طلباء ملائیشیا کے اداروں میں اپنی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔نمل یونیورسٹی کے ڈائریکٹر جنرل برگیڈیئر (ریٹائرڈ )محمد رفیق خان نے ہائی کمشنر کو ان کے دورے پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اس موقع کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ ملائیشیا کے ہائی کمشنر کا نمل کے قیام کے بعد سے یہ پہلا دورہ ہے۔ انہوں نے پاکستان اور ملائیشیا تعلقات کے بارے میں سفیر کے بصیرت انگیز خطاب کو سراہتے ہوئے اسے زبانوں اور بین الثقافتی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے نمل کے مشن کے ساتھ ہم آہنگ قرار دیا۔بریگیڈیئر خان نے ملائیشیا کی یونیورسٹیوں کے ساتھ مشترکہ تحقیقی اقدامات، تبادلہ پروگراموں، سیمینارز اور اشاعتوں کے ذریعے تعلیمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے یونیورسٹی کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب کا اختتام ایک انٹرایکٹو سوال و جواب کے سیشن کے ساتھ ہوا، جس کے بعد ملائیشیا کے قومی پکوان پیش کیے گئے، جن میں ناسی لیماک، می گورینگ مامک، اور کریپاپ پیسٹری شامل ہیں۔








