پاکستان میں ہر سال40 ہزار خواتین چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں، ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد۔یکم اکتوبر (اے پی پی): صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال40 ہزار خواتین چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں، خواتین چھاتی کے کینسر کی بروقت تشخیص خود بھی کر سکتی ہیں، چھاتی کے کینسر کی بروقت تشخیص سے 98 فیصد کامیاب علاج ممکن ہے، چھاتی کے کینسر کا علاج مہنگا ہے، مرض سے تحفظ کیلئے پیشگی احتیاط کی ضرورت ہے، پنک ربن …

اسلام آباد۔یکم اکتوبر (اے پی پی): صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال40 ہزار خواتین چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں، خواتین چھاتی کے کینسر کی بروقت تشخیص خود بھی کر سکتی ہیں، چھاتی کے کینسر کی بروقت تشخیص سے 98 فیصد کامیاب علاج ممکن ہے، چھاتی کے کینسر کا علاج مہنگا ہے، مرض سے تحفظ کیلئے پیشگی احتیاط کی ضرورت ہے، پنک ربن کا مقصد چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے، غذائی قلت سے پاکستان میں سٹنٹنگ کا بڑا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے، ماں کی غذائی ضروریات میں احتیاط سے بچوں میں سٹنٹنگ کے امکانات کم کئے جا سکتے ہیں، دو سال تک بچوں کو دودھ پلانے سے ماں چھاتی کے کینسر سے بچ سکتی ہے، وزیراعظم عمران خان نے کورونا وبا سے بچاﺅ کیلئے سمارٹ لاک ڈاﺅن کا بروقت اور درست فیصلہ کیا، کورنا سے بچاﺅ کیلئے ہاتھ دھونا، ماسک پہننا اور سماجی فاصلہ ضروری ہے، اسی طرح احتیاطی اقدامات سے چھاتی کے کینسر سے بھی بچا جا سکتا ہے، شوکت خانم ہسپتال بنانے کا مقصد کینسر کے غریب مریضوں کا مفت علاج تھا، قوموں کے ارتقائ میں تعلیم اور صحت کا اہم کردار ہوتا ہے، چھاتی کے کینسر سے سے متعلق شعور کی آگاہی کے حوالہ سے جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں سٹنٹنگ کا ذکر کیا۔ دنیا میں تعلیم اور صحت بنیادی اہمیت کی حامل ہیں، کسی بھی قوم کی ترقی میں تعلیم اور صحت کا کردار بنیادی ہوتا ہے، وزیراعظم نے سیاسی زندگی سے قبل عوام کو کینسر سے بچاﺅ? اور علاج کیلئے جدوجہد کی اور شوکت خانم ہسپتال کا مقصد بھی غریب طبقہ کو کینسر کے مفت علاج کی فراہمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں وزیراعظم نے صحت اور تعلیم کو فوقیت دی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ آج شوکت خانم دنیا میں ایک بہترین مثال ہے۔ انہوں نے قوم سے گزارش کی کہ کورونا ختم نہیں ہوا، قوم نے وبا کا بہترین مقابلہ کیا ہے، ایسا نہ ہو کہ ہماری بداحتیاطی سے ہمیں اس کا دوبارہ سامنا کرنا پڑے کیونکہ دنیا کے کئی ممالک میں وبا دوبارہ پھیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسک پہن کر، ہاتھ دھو کر اور سماجی فاصلہ کی احتیاطوں سے کورونا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح احتیاطی تدابیر کے ذریعے چھاتی کے کینسر سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ صدر نے سٹنٹنگ اور بریسٹ فیڈنگ کے حوالہ سے کہا کہ اس کا گہرا تعلق ہے، اگر پہلے ہزار دن میں بچے کی خوراک کا خیال رکھا جائے تو اس کو دماغی کمزوری سے بچایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں یہ شرح 38 تا 40 فیصد ہے جو پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کے دودھ پلانے سے سٹنٹنگ کم ہوتی ہے، ماں حاملہ نہیں ہوتی اور بریسٹ کینسر سے بھی محفوظ رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن میں تین مقامات پر دوسال تک بچے کو دودھ پلانے کی ہدایت ہے اور آج سائنس بھی ماں کے دودھ پلانے کی اہمیت مانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر سے آگاہی میں کوئی سرکاری اخراجات نہیں کئے گئے بلکہ این جی اوز، اداروں اور مسلح افواج سمیت دیگر شراکت داروں کے تعاون سے مہم چلائی جا رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ آگاہی کو عام کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو ملک ترقی کی راہ پر ہو اس کے وسائل کم ہوتے ہیں لیکن پختہ یقین ہے کہ ہم ترقی کی منازل حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل سے بچنے کیلئے سب سے اچھا ر استہ احتیاط کا ہے۔ چھاتی کے کینسر کا علاج مہنگا ہے لیکن احتیاط سے بچا جا سکت ہے، بیماری سے بچنے کا آسان طریقہ آگاہی ہے، بروقت تشخیص سے بریسٹ کینسر کا 98 فیصد علاج ممکن ہے۔ بیماری کے حوالہ سے شرمانا نہیں چاہئے بلکہ اس حوالہ سے بات کرنی ہو گی۔ پاکستان میں ہرسال 40 فیصد خواتین چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں۔ پاکستان میں اموات کی شرح زیادہ ہے کیونکہ تشخیص دیر سے ہوتی ہے۔ اس بیماری کے حوالہ سے خاندان اور سماج کی رکاوٹیں ختم کرنی ہونگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ علمائے کرام چھاتی کے کینسر کے حوالہ سے آگاہی میں مدد کر سکتے ہیں جس طرح کورونا میں کی۔صدر نے کہا کہ قوم کی ترقی میں اچھی صحت کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم چھاتی کے سرطان کے سب مریضوں کا اگر علاج نہیں کر سکتی تو ہم سب کا فرض ہے کہ احتیاط کریں اور آگاہی پھیلائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کی بیماری کے پھیلاﺅ میں زیادہ انجیکشنز کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ قوم ترقی کے راستے پر گامزن ہے اور ملک ضرور ترقی کرے گا۔ آخر میں انہوں نے مخیر حضرات سے کہا کہ وہ اس حوالہ سے اپنا کردار ادا کریں جبکہ ہر فرد چھاتی کے کینسر کی آگاہی کے فروغ میں ہر ممکن حد تک اپنا حصہ ڈالے۔

مزید خبریں