اپ سکیلنگ گرین پاکستان پروگرام (یو جی پی پی)کے جنگلی حیات سے متعلق حصے کے تحت خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں 165 دیہی تحفظ کمیٹیاں (وی سی سیز)قائم کی گئی ہیں جن کے ذریعے ملک میں جنگلی حیات اور ان کے قدرتی مساکن کے تحفظ میں مقامی آبادی کی شرکت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
گرین پاکستان پروگرام کے تحت 165 دیہی تحفظ کمیٹیاں قائم

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):اپ سکیلنگ گرین پاکستان پروگرام (یو جی پی پی)کے جنگلی حیات سے متعلق حصے کے تحت خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں 165 دیہی تحفظ کمیٹیاں (وی سی سیز)قائم کی گئی ہیں جن کے ذریعے ملک میں جنگلی حیات اور ان کے قدرتی مساکن کے تحفظ میں مقامی آبادی کی شرکت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جن میں مالی سال 2019 سے مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی تک یو جی پی پی کے تحت جنگلی حیات سے متعلق اہم سرگرمیوں پر پیش رفت کی تفصیلات دی گئی ہیں، ان کمیٹیوں میں سے 115 آزاد جموں و کشمیر جبکہ مزید 50 خیبرپختونخوا میں قائم کی گئی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اس مخصوص سرگرمی کے تحت پنجاب، سندھ، بلوچستان یا گلگت بلتستان میں کسی دیہی تحفظ کمیٹی کا اندراج نہیں کیا گیا۔ اس طرح قائم کی گئی 165 کمیٹیوں میں سے تقریباً 70 فیصد آزاد جموں و کشمیر میں ہیں، جبکہ باقی خیبرپختونخوا میں قائم کی گئی ہیں۔یہ کمیٹیاں پروگرام کے تحت جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہیں، جن میں محفوظ علاقوں کی توسیع اور انتظام، جنگلی حیات کی نگرانی، مقامی آبادی کی شمولیت سے تحفظ، ماحولیاتی سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے اقدامات شامل ہیں۔
پیش رفت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروٹیکٹڈ ایریاز انیشی ایٹو کے تحت 131 نئے محفوظ علاقے قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں پنجاب میں 65، خیبرپختونخوا میں 29، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر میں دو، دو جبکہ گلگت بلتستان میں 16 محفوظ علاقے شامل ہیں۔محفوظ علاقوں کے لیے مزید 70 انتظامی منصوبے بھی تیار کیے گئے ہیں، جن میں گلگت بلتستان میں 32، آزاد جموں و کشمیر میں 20، خیبرپختونخوا میں 14، پنجاب میں تین اور بلوچستان میں ایک منصوبہ شامل ہے۔پروگرام کے تحت جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے 52 وائلڈ لائف چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئی ہیں، جبکہ 148 جنگلی حیات سروے کیے گئے ہیں۔ اعداد و شمار میں 247 کمیونٹی پر مبنی منصوبے بھی درج ہیں، جن میں بلوچستان میں 197 اور خیبرپختونخوا میں 50 منصوبے شامل ہیں۔
جنگلی حیات کے لیے پانی کی دستیابی پر بھی توجہ دی گئی ہے اور پروگرام کے تحت 1,145 آبی مقامات قائم کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ان میں بلوچستان میں 980، خیبرپختونخوا میں 120 اور گلگت بلتستان میں 45 آبی مقامات شامل ہیں۔پیش رفت کی دستاویز میں درج دیگر اقدامات میں موجودہ اور نئے محفوظ علاقوں میں ماحولیاتی سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کے 31 اقدامات، 24 افزائشی مراکز، محفوظ علاقوں میں ٹھوس فضلہ کے انتظام کے 47 اقدامات اور یونیسکو کے تحت مین اینڈ دی بایوسفیئر ریزروز قرار دینے کے لیے تیار کیے گئے چھ ڈوزیئرز شامل ہیں۔پیش رفت کے اعداد و شمار کے مطابق پروگرام کے جنگلی حیات سے متعلق حصے کے تحت 4,939 گرین ملازمتیں بھی پیدا کی گئی ہیں۔اپ سکیلنگ گرین پاکستان پروگرام 2019 میں ملک گیر سطح پر شروع کیا گیا تھا، جس میں جنگلات اور جنگلی حیات کے وسائل شامل ہیں۔







