پاکستان اپنی ڈیجیٹل افرادی قوت کو وسعت دینے اور آئی ٹی برآمدات بڑھانے کے لیے کوششیں تیز کر رہا ہےجس کے تحت نیشنل سیمی کنڈکٹر ایچ آر ڈویلپمنٹ پروگرام (انسپائر) میں 7,200 افراد کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، حکومت کے تعاون سے جاری دیگر اقدامات کے تحت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں 25,000 سے زائد نوجوانوں اور صنعتی شراکت داری کے ذریعے مزید 100000 طلبہ کو تربیت …
پاکستان کا ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے تحت ایک لاکھ 32 ہزار نوجوانوں و طلبہ کو تربیت دینے کا ہدف

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):پاکستان اپنی ڈیجیٹل افرادی قوت کو وسعت دینے اور آئی ٹی برآمدات بڑھانے کے لیے کوششیں تیز کر رہا ہےجس کے تحت نیشنل سیمی کنڈکٹر ایچ آر ڈویلپمنٹ پروگرام (انسپائر) میں 7,200 افراد کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، حکومت کے تعاون سے جاری دیگر اقدامات کے تحت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں 25,000 سے زائد نوجوانوں اور صنعتی شراکت داری کے ذریعے مزید 100000 طلبہ کو تربیت دینے کا منصوبہ ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) کے زیرعمل انسپائر پروگرام سے سیمی کنڈکٹر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کلسٹرز کے ذریعے 2200 انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ مستفید ہوں گے جبکہ ملک گیر اپ سکلنگ پروگراموں کے ذریعے مزید 5000 انجینئرز کو تربیت دی جائے گی، اس اقدام کا مقصد پاکستان میں سیمی کنڈکٹر کے شعبے کے لیے باصلاحیت افرادی قوت تیار کرنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم سکل ٹیک پاکستان انیشی ایٹو کے تحت آئندہ تین سال میں 25000 سے زائد نوجوانوں کو ابھرتی ہوئی اور صنعت کی طلب کے مطابق ٹیکنالوجیز میں تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے جن میں مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ شامل ہیں۔اس اقدام میں بوٹ کیمپس، پیشہ ورانہ سرٹیفیکیشن، انٹرن شپس، سافٹ سکلز کی تربیت اور صنعت کے ساتھ روابط بھی شامل ہیں تاکہ روزگار کے مواقع بہتر بنائے جا سکیں اور برآمدات کے لیے تیار ڈیجیٹل افرادی قوت تشکیل دی جا سکے۔
پی ایس ای بی نے زیڈ ٹی ای پاکستان کے ساتھ یوتھ ڈویلپمنٹ معاہدہ بھی کیا ہے جس کے تحت مصنوعی ذہانت، فائیو جی اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجیز سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں آن لائن تعلیمی پروگراموں کے ذریعے 100000 طلبہ کو تربیت دی جائے گی، اس شراکت داری کے تحت ٹریننگ آف ٹرینرز پروگرام کے ذریعے 100 سند یافتہ ٹرینرز تیار کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کی یہ کوششیں پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی برآمدات کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھانے، صنعت کے لیے سہولیات بہتر بنانے، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور برآمدات کے لیے تیار ڈیجیٹل افرادی قوت کی تیاری پر توجہ دی جا رہی ہے۔
پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی عالمی سطح پر موجودگی بڑھانے کے لیے پی ایس ای بی بین الاقوامی ٹیکنالوجی نمائشوں، مخصوص تجارتی وفود اور کاروباری روابط قائم کرنے کے اقدامات میں شرکت کی سہولت فراہم کر رہا ہے، ان اقدامات کا مقصد پاکستانی کمپنیوں کو بیرون ملک منڈیوں سے جوڑنا، غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنا اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔حکومت وزیراعظم نیشنل ٹیکنالوجی پارکس کو بھی توسیع دے کر 250 مراکز تک لے جا رہی ہے جبکہ اسلام آباد اور کراچی میں آئی ٹی پارکس کی ترقی اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام بھی جاری ہے، ان سہولیات کا مقصد سٹارٹ اپس، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، فری لانسرز اور آئی ٹی کمپنیوں کو بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا اور ملک کے ٹیکنالوجی برآمدی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔دریں اثنا، پی ایس ای بی کے مرکز ون ونڈو پلیٹ فارم کے ذریعے صنعت کے لیے سہولیات کو مزید مضبوط کیا گیا ہے جو رجسٹریشن، ویزا سہولت، غیر ملکی ترسیلات زر سے متعلق معاملات، ریگولیٹری رابطہ کاری اور سرمایہ کاروں کی خدمات کے لیے چوبیس گھنٹے معاونت فراہم کرتا ہے۔
رجسٹریشن کے عمل کو بھی مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے جس کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن، تجدید اور کیو آر کوڈ کے حامل قابل تصدیق سرٹیفکیٹس کا اجرا ممکن ہے۔مالی اور ریگولیٹری سطح پر پی ایس ای بی سٹیٹ بینک پاکستان کے ساتھ مل کر مخصوص بینکاری ذرائع، خصوصی فوکل پرسنز اور زرمبادلہ کے طریقہ کار میں بہتری کے ذریعے آئی ٹی برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے پر کام کر رہا ہے، ان اقدامات میں ڈیجیٹل سروس پرووائیڈرز لسٹ میں توسیع، برآمدی آمدنی کی وصولی کے عمل کو آسان بنانا اور ایکسپورٹر سپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس کے لیے سہولت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔پاکستان نے اپنا پہلا یو ایس سٹیٹ، لوکل اینڈ ایجوکیشن (ایس ایل ای ڈی) پروکیورمنٹ ٹریننگ پروگرام بھی شروع کیا ہے تاکہ مقامی آئی ٹی کمپنیوں اور پیشہ ور افراد کو امریکی سرکاری خریداری کے طریقہ کار کو سمجھنے اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی معاہدے حاصل کرنے کے امکانات بہتر بنانے میں مدد دی جا سکے۔







