پاکستان نیدرلینڈ کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کو خصوصی اہمیت دے رہاہے، قابل اعتماد غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے میں پرعزم ہیں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی نیدرلینڈ کے سفیر رابرٹ جان سیگرٹ سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان نیدرلینڈ کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کو خصوصی اہمیت دے رہاہے، قابل اعتماد غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں پرعزم ہیں۔انہوں نے یہ بات بدھ کوپاکستان میں نیدرلینڈ کے سفیر رابرٹ جان سیگرٹ سے ملاقات میں کہی۔ وہ اینگرو کارپوریشن اور اینگرو ووپاک ٹرمینل لمیٹڈ (ای …

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان نیدرلینڈ کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کو خصوصی اہمیت دے رہاہے، قابل اعتماد غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں پرعزم ہیں۔انہوں نے یہ بات بدھ کوپاکستان میں نیدرلینڈ کے سفیر رابرٹ جان سیگرٹ سے ملاقات میں کہی۔ وہ اینگرو کارپوریشن اور اینگرو ووپاک ٹرمینل لمیٹڈ (ای وی ٹی ایل) کے ایک وفد کے ہمراہ وزیر خزانہ سے ملنے آئے تھے۔ وفد میں پریزیڈنٹ اینگرو کارپوریشن احسن ظفر سید ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ای وی ٹی ایل عمار شاہ اور وائس پریزیڈنٹ و چیف گورنمنٹ ریلیشنز آفیسر اینگرو کارپوریشن یاسر علی شامل تھے۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان نیدرلینڈ کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کو خصوصی اہمیت دے رہاہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ باوقار بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ دیرینہ شراکت داریاں پاکستان کی اقتصادی ترقی میں مثبت کردار ادا کرتی ہیں، تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دیتی ہیں اور عالمی کاروباری برادری میں اعتماد کو مستحکم کرتی ہیں۔ ہالینڈکے سفیر نے ملاقات کا موقع فراہم کرنے پر وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کیا اور نیدرلینڈز کی جانب سے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان میں ڈچ کمپنیوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اور ڈچ اداروں کے درمیان کامیاب شراکت داریاں دونوں ممالک کے مابین گہرے اقتصادی تعاون کی بھرپور صلاحیت کو ظاہر کررہی ہے۔ ملاقات کے دوران اینگرو کی ٹیم نے وزیر خزانہ کو اینگرو ووپاک ٹرمینل لمیٹڈ کی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی جو نیدرلینڈز کی رائل ووپاک اور اینگرو کارپوریشن کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

وفد نے بتایا کہ یہ ٹرمینل 1996ء سے پورٹ قاسم پر فعال ہے اور پاکستان کی صنعتی و توانائی سپلائی چین میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جہاں زیریں صنعتوں کے لیے درکار کلیدی کیمیکلز کی درآمدات کو سنبھالا جاتا ہے، نیز گھریلو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے میریئن ایل پی جی کا خاطر خواہ حصہ بھی یہیں سے ہینڈل کیا جاتا ہے۔ وفد نے ٹرمینل کے مستقبل کے آپریشنل انتظامات کے حوالے سے بھی اپنی آراء پیش کیں اور اس بات پر زور دیا کہ صنعتی پیداوار اور سپلائی چین کے استحکام کی معاون خصوصی بنیادی ڈھانچہ کی تسلسل کے ساتھ فعالیت نہایت اہم ہے۔ انہوں نے شراکت داروں میں دیرینہ تعاون اور اس نوعیت کی سرمایہ کاری کے پاکستان کے اقتصادی منظرنامے میں وسیع تر کردار کو بھی اجاگر کیا۔

وزیر خزانہ نے وفد کی بریفنگ کو سراہتے ہوئے اس بات کی اہمیت تسلیم کی کہ پاکستان کے صنعتی نظام میں کردار ادا کرنے والی سرمایہ کاری شفاف اور موثر فریم ورک کے تحت جاری رہنی چاہیے۔ انہوں نے قابل اعتماد غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور جاری اقتصادی شراکت داریوں سے متعلق امور کے حل میں حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور اس کے توانائی منڈیوں اور سپلائی چینز پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی مناسب دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے اور ممکنہ سپلائی چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ وفد نے بین الاقوامی منڈیوں میں اتار چڑھائو کے تناظر میں لاجسٹکس اور سپلائی سے متعلق عمومی صنعتی نقطہ نظر بھی پیش کیا۔