وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایسے وقت میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی جب کشیدگی میں اضافے کا خدشہ تھا، پاکستان نے شہرت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ امن کے قیام میں سہولت کاری کی کوشش کی، دہائیوں پر مبنی اعتماد ، خاموش اور مسلسل ثالثی کے ذریعے ہم نے دونوں فریقین کو …
پاکستان نے ایسے وقت میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی جب کشیدگی میں اضافے کا خدشہ تھا، بیرسٹر عقیل ملک

مزید خبریں
ہانگ کانگ۔8مئی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایسے وقت میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی جب کشیدگی میں اضافے کا خدشہ تھا، پاکستان نے شہرت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ امن کے قیام میں سہولت کاری کی کوشش کی، دہائیوں پر مبنی اعتماد ، خاموش اور مسلسل ثالثی کے ذریعے ہم نے دونوں فریقین کو کشیدگی کے دہانے سے پیچھے ہٹنے میں مدد دی، ثالثی اس وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب ثالث خود فریق نہ ہو اور فریقین کو اس پر اعتماد ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہو ں نے ہانگ کانگ میں گلوبل میڈی ایشن سمٹ کی سالانہ تقریبِ عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا اور اقتصادی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے ثالثی کے عمل کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ بیرسٹر عقیل ملک نے ہانگ کانگ کوقانونی روایات کے درمیان ایک پل اور تنازعات کے پُرامن حل کی علامت قرار دیتے ہوئے متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) کے شعبے میں پاکستان کی حالیہ پیش رفت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان نے سنگاپور کنونشن آن میڈی ایشن پر دستخط کیے، IOMed کنونشن پر دستخط اور توثیق کی، وزارتِ قانون و انصاف کے تحت انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی میک) قائم کیا، عدالتوں سے منسلک ثالثی کا نظام متعارف کرایا اور 1300 سے زائد ججز، وکلا، سرکاری افسران، کاروباری شخصیات اور طلبہ کو ثالثی اور آربیٹریشن کی تربیت فراہم کی۔انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاروں کے لیے ہمارا پیغام سادہ ہے، اگر آپ پاکستان آئیں گے تو آپ کو نہ صرف مواقع میسر آئیں گے بلکہ تنازعات کے منصفانہ، مؤثر اور خوش اسلوبی سے حل کے طریقے بھی دستیاب ہوں گے۔ بیرسٹر عقیل ملک نے ثالثی کے لیے دنیا کی پہلی بین الحکومتی تنظیم آئی او میڈکے قیام پر چین کو سراہتے ہوئے کہا کہ ون کنٹری، ٹو سسٹمز کے تحت ہانگ کانگ ایک غیرجانبدار اور پیشہ وارانہ ثالثی نظام کی تشکیل میں منفرد کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان آئی او میڈ کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ ہم اسے ایسا پلیٹ فارم سمجھتے ہیں جہاں ریاستیں، سرمایہ کار اور ماہرین مشترکہ اصول تشکیل دے سکتے ہیں، بہترین تجربات کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور امن کے داعیوں کی نئی نسل کو تربیت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کو آخری نہیں بلکہ پہلا راستہ بنایا جائے، عالمی ثالثی نظام کے ستون کے طور پر آئی او میڈ میں سرمایہ کاری کی جائے اور یہ یاد رکھا جائے کہ مذاکرات کی میز پر حل ہونے والا ہر تنازع میدانِ جنگ میں ایک بحران سے بچاؤ کے مترادف ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشن میں آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔
سربراہی اجلاس میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا گیا جنہوں نے وسیع تر تنازع کے خطرے کو روکنے میں مدد فراہم کی۔ وزیرِ مملکت بیرسٹر عقیل ملک کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد میں رجسٹرار آئی ایم اے سی احسان اللہ خان محسود، قونصل جنرل ریاض احمد شیخ اور ڈپٹی قونصلیٹ جنرل آف پاکستان ہانگ کانگ محمد امجد شامل ہیں۔ سمٹ کے موقع پر وزیرِ مملکت نے ہانگ کانگ ایس اے آر کے سیکریٹری فار جسٹس سے ملاقات کی جس میں دونوں وزارتوں کے درمیان پہلے سے موجود مفاہمتی یادداشت کے تحت تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے آئی او میڈ کی سیکریٹری جنرل پروفیسر ٹریسا چینگ سے بھی ملاقات کی اور انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔ دونوں جانب سے مشترکہ تربیتی پروگراموں اور آئندہ سمٹس کے ذریعے ثالثی کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ وزیرِ مملکت نے پروفیسر ٹریسا چینگ اور آئی او میڈ ٹیم کو کامیاب تقریب کے انعقاد پر مبارکباد بھی دی۔








