پاکستان نے دہشت گردی اور علاقائی سکیورٹی کے چیلنجر کے باوجود ہمیشہ انسانیت کے وقار اور بالادستی کو ترجیح دی ،وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 25 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی اور علاقائی سکیورٹی کے چیلنجر کے باوجود ہمیشہ انسانیت کے وقار اور بالادستی کو ترجیح دی، کشمیر میں بھارتی قوانین کشمیریوں کے بنیادی حقوق اور شخصی آزادی کے خلاف ہیں، عورتیں، بچے اور جوان بھارتی افواج کے مظالم کا شکار ہیں، عورتوں کے ساتھ زیادتی جبر …

اسلام آباد ۔ 25 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی اور علاقائی سکیورٹی کے چیلنجر کے باوجود ہمیشہ انسانیت کے وقار اور بالادستی کو ترجیح دی، کشمیر میں بھارتی قوانین کشمیریوں کے بنیادی حقوق اور شخصی آزادی کے خلاف ہیں، عورتیں، بچے اور جوان بھارتی افواج کے مظالم کا شکار ہیں، عورتوں کے ساتھ زیادتی جبر کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے 43ویں اجلاس سے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پچھلے سال ہم نے کرتارپور راہداری کو کھولا اور دنیا کے سب سے بڑے گرودوارہ کی تعمیر کی۔ انہوں نے کہا کہ 6 ماہ سے زائد عر صہ سے 8 لاکھ کشمیری دنیا کی سب سے بڑی جیل میں بند ہیں۔ شیریں مزاری نے کہا کہ کشمیر میں جسمانی اور ڈیجیٹل لاک ڈاو¿ن عالمی انسانی حقوق کے معیار کے خلاف ہے، کشمیر میں بھارتی قوانین کشمیریوں کے بنیادی حقوق اور شخصی آزادی کے خلاف ہیں، عورتیں، بچے اور جوان بھارتی افواج کے مظالم کا شکار ہیں، عورتوں کے ساتھ زیادتی جبر کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں بالخصوص 1325 کے منافی ہے، 5 اگست کے بعد 6 ہزار کشمیریوں، سیاسی رہنماﺅں، کارکنوں، طالب علموں اور جوانوں کو گرفتار کیا گیا۔