طورخم۔ 04 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سیفران اور امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے جمعرات کو طورخم سرحد پر علاقائی یکجہتی اور انسانی ہمدردی کے طور پر پاکستان کی جانب سے افغان زلزلہ متاثرین کےلئے امدادی سامان کی بڑی کھیپ افغان حکام کے حوالے کر دی، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر امدادی پیکیج میں ضروری غذائی اشیاء، ادویات اور دیگر روزمرہ استعمال کی …
پاکستان نے زلزلہ متاثرین کےلیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ افغان حکام کے حوالے کر دی

مزید خبریں
طورخم۔ 04 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سیفران اور امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے جمعرات کو طورخم سرحد پر علاقائی یکجہتی اور انسانی ہمدردی کے طور پر پاکستان کی جانب سے افغان زلزلہ متاثرین کےلئے امدادی سامان کی بڑی کھیپ افغان حکام کے حوالے کر دی، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر امدادی پیکیج میں ضروری غذائی اشیاء، ادویات اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل ہیں جو گزشتہ اتوار کو افغانستان میں آنے والے شدید زلزلے کے متاثرین کی مدد کےلیے فراہم کیا گیا ہے، اس زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی جس میں کم از کم 1,469 افراد جاں بحق اور3,700 زخمی ہوئے، زلزلے سے تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔
طورخم سرحد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے دکھ کی اس گھڑی میں پاکستانی عوام کی جانب سے افغان عوام کے ساتھ غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت دکھ کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، یہ امدادی پیکیج زلزلے سے متاثرہ افغانوں کےلیے ہماری گہری انسانی ہمدردی اور یکجہتی کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے افغانستان میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور املاک کو پہنچنے والے نقصان پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور پڑوسی ملک کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا عزم کیا ہے، اس آفت کے فوراً بعد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے بھی اپنے افغان ہم منصب سے رابطہ کر کے زلزلے کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کےلیے مسلسل تعاون کا یقین دلایا۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ پاکستان کو بھی قدرتی آفات کا سامنا ہے، ملک کو حالیہ سیلابوں سے بھی کافی تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور پنجاب میں بہت نقصان ہوا ہے، ان آفات نے نہ صرف جانیں لیں بلکہ اہم انفراسٹرکچر، مویشیوں، فصلوں اور مواصلاتی نیٹ ورک کو بھی نقصان پہنچایا۔
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ اپنے چیلنجز کے باوجود پاکستان علاقائی انسانی امداد کےلیے اپنے عزم کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے قومی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور فلاحی تنظیموں کی کوششوں کی تعریف کی جنہوں نے ہنگامی حالات میں ردعمل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ امدادی کوشش صرف حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک قومی فریضہ ہے، میں ان تمام لوگوں کی تعریف کرتا ہوں جنہوں نے مصیبت زدہ ہمارے ساتھی انسانوں کی مدد کے لیے قدم بڑھایا، امدادی سامان کی کھیپ کو ایک تقریب کے دوران سرکاری طور پر افغان حکام کے حوالے کیا گیا جو طورخم سرحد پر منعقد ہوئی، یہ ترسیل پاکستان اور افغانستان کے درمیان انسانی ہمدردی کے تعاون میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، امید ہے کہ اس طرح کی امداد زلزلے سے متاثرہ بھائیوں کی تکالیف کو کم کرنے میں مدد کرے گی اور مستقبل میں آفات سے زیادہ مربوط انداز میں نمٹنے کے لیے راہ ہموار کرے گی۔








