سپریم کورٹ کے وکیل اور آئینی و بین الاقوامی قانون کے ماہر حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ پاکستان نے حالیہ سفارتی کوششوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ایران و امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
پاکستان نے مؤثر سفارتکاری سے مشرق وسطی میں ممکنہ علاقائی تصادم کو روکا، ماہر قانون حافظ احسان احمد کھوکھر کا انٹرویو

مزید خبریں
طاہر چوہدری
اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ کے وکیل اور آئینی و بین الاقوامی قانون کے ماہر حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ پاکستان نے حالیہ سفارتی کوششوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ایران و امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔مشرق وسطی کی تازہ صورت حال بارے اے پی پی کو ایک خصوصی انٹرویو میں حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرہ بن رہی تھی، تاہم پاکستان نے بروقت اور متوازن سفارتکاری کے ذریعے حالات کو سنبھالا۔ ان کے مطابق اسلام آباد کی جانب سے غیر جانبدار ثالث کے طور پر کردار ادا کرنا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بیک وقت مختلف عالمی دارالحکومتوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے، جس سے نہ صرف کشیدگی میں کمی آئی بلکہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کثیرالجہتی سفارتکاری پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کی عکاس ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطحی عسکری اور سیاسی روابط نے اس عمل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ان رابطوں کے نتیجے میں ایسے اقدامات کو روکا گیا جو خطے کو بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتے تھے، خصوصاً توانائی کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے جیسے خطرات۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ اگر یہ کشیدگی بڑھتی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہ رہتے بلکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہوتی، تیل کی قیمتیں بڑھتیں اور مالیاتی منڈیاں غیر مستحکم ہو جاتیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مداخلت نے ان ممکنہ خطرات کو کم کرنے میں مدد دی۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات ایک اہم موقع ہیں، جو دیرینہ کشیدگی کو کم کرنے اور اعتماد سازی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ علاقائی امن کے ساتھ ساتھ عالمی استحکام کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار اب محض ایک علاقائی ریاست تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ عالمی سطح پر امن کے فروغ میں ایک فعال اور ذمہ دار فریق کے طور پر ابھر رہا ہے۔








