پاکستان نے 2016ءمیں پی ای سی اے کا اجراءکیا جس سے متعدد سائبر کرائمز کو قابل دست اندازی بنایا گیا، وزیر مملکت انوشہ رحمن

اسلام آباد ۔ 16 مارچ (اے پی پی) کامن ویلتھ ٹیلی کمیونیکیشن آرگنائزیشن (سی ٹی او) کے زیر اہتمام ”پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبہ میں سائبر کرائم سے نمٹنے “ کے موضوع پر 2روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا اہتمام وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کی معاونت سے کیا گیا۔ سی ٹی او اور کامن ویلتھ سیکرٹریٹ کے سینئر مندوبین نے ورکشاپ کا اہتمام کیا جو …

اسلام آباد ۔ 16 مارچ (اے پی پی) کامن ویلتھ ٹیلی کمیونیکیشن آرگنائزیشن (سی ٹی او) کے زیر اہتمام ”پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبہ میں سائبر کرائم سے نمٹنے “ کے موضوع پر 2روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا اہتمام وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کی معاونت سے کیا گیا۔ سی ٹی او اور کامن ویلتھ سیکرٹریٹ کے سینئر مندوبین نے ورکشاپ کا اہتمام کیا جو دولت مشترکہ کے 53 رکن ممالک کی استعداد کار بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ورکشاپ میں گلوبل سائبر کرائم لینڈ سکیپ، سائبر کرائم کیلئے قانونی کارروائی اور ڈیٹا کے تحفظ جیسے موضوعات پر توجہ دی گئی۔ وزیر مملکت برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام انوشہ رحمن نے ورکشاپ کا افتتاح کیا۔ پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر تھامس ڈریو نے بھی ورکشاپ کے سیشن میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت انوشہ رحمن نے کہا کہ پاکستان نے 2016ءمیں پی ای سی اے کا اجراءکیا جس سے متعدد سائبر کرائمز کو قابل دست اندازی بنایا گیا۔

مزید خبریں