"فریال تالپور کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہیڈکوارٹرز کا دورہ، سماجی تحفظ اور مستحق خاندانوں کی فلاح سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔”
پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر فریال تالپور کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہیڈکوارٹرز کا دورہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر فریال تالپور نے پیر کے روز بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔
ترجمان بی آئی ایس پی کے مطابق چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد اور سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے ان کا خیرمقدم کیا۔ سیکرٹری عامر علی احمد نے فریال تالپور کو بی آئی ایس پی کی مجموعی پیشرفت، اہم اصلاحات، نئے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام اور پاکستان بھر میں سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں پروگرام کے کردار پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت نے رواں مالی سال کے لئے بی آئی ایس پی کے لئے 838 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ بینظیر کفالت پروگرام کے تحت ایک کروڑ تین لاکھ مستحق خاندانوں کو ہر سہ ماہی 14,500 روپے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 24 لاکھ بچوں کی تعلیم میں معاونت کی جا رہی ہے جبکہ بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت تقریباً 20 لاکھ خواتین اور بچوں کو غذائی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔انہیں مزید آگاہ کیا گیا کہ مستحقین کے لئے ادائیگیوں کے نظام میں شفافیت، سہولت اور وقار کو یقینی بنانے کے لئے 97 لاکھ ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن والٹس کھولے جا چکے ہیں اور موجودہ قسط کی ادائیگیاں انہی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔ فریال تالپور کو بینظیر ہنرمند پروگرام کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جس کے تحت بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے خاندانوں اور ان کے اہلِخانہ کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مفت فنی و پیشہ وارانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔سیکرٹری بی آئی ایس پی نے ورلڈ بینک کی حالیہ تحقیق کے نتائج بھی پیش کئے جن کے مطابق بی آئی ایس پی ایک کروڑ دو لاکھ سے زائد خاندانوں کی معاونت کر رہا ہے جو ملک کے تقریباً 24 فیصد گھرانوں پر مشتمل ہیں۔ تحقیق کے مطابق بی آئی ایس پی کے ذریعے دیئے جانے والے ہر ایک روپے کے بدلے گھریلو آمدنی میں 2.34 روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ بی آئی ایس پی کے باعث پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیاں 16 لاکھ 60 ہزار ملازمتوں کو سہارا دیتی ہیں اور قومی خزانے میں سالانہ تقریباً 174 ارب روپے کا معاشی فائدہ پہنچاتی ہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فریال تالپور نے بی آئی ایس پی کی شفافیت، خدمات کی فراہمی، مالی شمولیت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے لئے کی جانے والی اصلاحات کو سراہا۔ انہوں نے غربت میں کمی، خواتین کو بااختیار بنانے اور انسانی وسائل کی ترقی میں بی آئی ایس پی کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شفافیت کو مزید مضبوط بنایا جائے، عوامی آگاہی میں اضافہ کیا جائے اور مستحقین کے لئے خدمات تک رسائی کو مزید آسان، مؤثر اور سہل بنایا جائے۔








