پاکستان کا بھارت کے بیان پر سخت ردعمل، الزامات کو بدنیتی پر مبنی قرار دیدیا

وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بھارت کی جانب سے پاکستان کی شیعہ برادری سے متعلق دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بدنیتی پر مبنی اور توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اسلام آباد۔28مارچ (اے پی پی):وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بھارت کی جانب سے پاکستان کی شیعہ برادری سے متعلق دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بدنیتی پر مبنی اور توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق طاہر حسین اندرابی نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ بھارت کے ریمارکس تشویش کے لبادے میں حقیقت سے فرار کے مترادف ہیں اور ایسے بیانات بھارت کے اپنے داخلی ریکارڈ کو نہیں چھپا سکتے جہاں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے خلاف امتیاز اور تشدد کو بتدریج معمول بنایا جا رہا ہے ،عبادت پر پابندیوں سے لے کر ہجوم کے ہاتھوں تشدد (ماب لنچنگ) اور گھروں و روزگار کو نشانہ بنانے تک یہ رجحانات اچھی طرح دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔

ترجمان کے مطابق مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی ماب لنچنگ(ہجوم کے ہاتھوں قتل) کے واقعات میں اضافہ تشویشناک اور قابل نفرت ہے اور 2025 کے دوران 55 سے زائد جبکہ جنوری 2026 سے اب تک 19 سے زائد مسلمانوں کو ہجوم کے ہاتھوں قتل کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتہا پسند گروہوں نے غیر قانونی طور پر 11 مساجد کو شہید کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد اکثر ریاستی سرپرستی کے باعث دندناتے پھرتے ہیں اور شاذ و نادر ہی قانون کے کٹہرے میں لائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود ان سنگین مسائل کا نوٹس لے، اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق عمل کرے اور دیگر ممالک کے خلاف بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی بیانات دینے سے گریز کرے۔