پاکستان کا مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کےلئے بھرپور عزم کا اعادہ

پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کےلئے اپنے بھرپور عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا سفارتی ہدف ثالثی اور مکالمے کے ذریعے امن اور استحکام کا حصول غیر متزلزل اور واضح ہے۔

اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کےلئے اپنے بھرپور عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا سفارتی ہدف ثالثی اور مکالمے کے ذریعے امن اور استحکام کا حصول غیر متزلزل اور واضح ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف پہلے ہی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات میں سہولت یا میزبانی کےلئے اپنی آمادگی ظاہر کرچکے ہیں۔انہوں نے متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ مذاکرات سے متعلق غیر مصدقہ خبروں پر قیاس آرائیاں نہ کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے وقت اور مقام کی تفصیلات حتمی ہونے کے بعد شیئر کی جائیں گی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی کےلئے ہونے والے مکالمے کی مکمل حمایت کرتا ہے جبکہ پاکستان امن و استحکام کی مسلسل وکالت کرتا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف خود سفارتی رابطوں کی قیادت کررہے ہیں اور عالمی سطح پر مختلف رہنمائوں سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار بھی اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ سفارتکاری میں رازداری اور صبر ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں تمام فریقین خصوصاً میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور غیر مصدقہ معلومات کی تشہیر سے گریز کریں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں موجودہ صورتحال کو کم کرنے، دشمنی کے خاتمے اور پرامن حل کی جانب پیش رفت کے لئے علاقائی فریقین کے ساتھ متحرک انداز میں رابطے میں ہے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف متعلقہ فریقین کے درمیان مذاکرات اور بات چیت کےلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔

وزیراعظم کے علاقائی رہنمائوں کے ساتھ حالیہ رابطوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم نے متعدد مسلم رہنمائوں سے بات چیت کی جن میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الصباح، ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان، اردن کے شاہ عبداللہ، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف، مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی، بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان، لبنان کے وزیراعظم نواف سلام، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانٹو شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم نے ان رہنمائوں سے اپنی گفتگو کے دوران خلیج فارس کے خطے کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور کشیدگی میں کمی، بات چیت اور سفارتکاری کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے امت مسلمہ میں اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کیا اور علاقائی امن کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی یقین دہانی کروائی۔ ترجمان نے کہا کہ اسی طرح نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے بھی پورے ہفتے کے دوران بھرپور سفارتی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سعودی وزیر خارجہ کی دعوت پر علاقائی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کےلئے 18 مارچ کو ریاض گئے۔ اجلاس میں آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، قطر، شام، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزراء بھی شریک ہوئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اس تنازع کا ایک بڑا فریق ہے کیونکہ اس پر بھی حملے کئے گئے ہیں، پاکستان کی کوششیں سعودی عرب کے ساتھ قریبی رابطے اور ہم آہنگی کے تحت کی جا رہی ہیں۔

ترجمان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری خواتین رہنما آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو فوری طور پر رہا کرے۔ ترجمان نے بھارتی خصوصی عدالت کی جانب سے انہیں سنائی گئی سزا کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے جبکہ فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30 ، 30 سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ترجمان نے ان سزائوں کو سیاسی طور پر محرک اور انتقامی کارروائی قرار دیا۔