پاکستان کا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے اعتراف پر مبنی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی دوسری رپورٹ کے اجراءکا خیرمقدم ، دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ 8 جولائی (اے پی پی) پاکستان نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے اعتراف پر مبنی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر (او ایچ سی ایچ آر) کی دوسری رپورٹ کے اجراءکا خیرمقدم کیا ہے جس میں جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس حق کے احترام پر زور دیا گیا …

اسلام آباد ۔ 8 جولائی (اے پی پی) پاکستان نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے اعتراف پر مبنی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر (او ایچ سی ایچ آر) کی دوسری رپورٹ کے اجراءکا خیرمقدم کیا ہے جس میں جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس حق کے احترام پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کو عالمی قانون کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔ پیر کو دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم ایک بار پھر او ایچ سی ایچ آر کی انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں جو بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میں روا رکھی جانے والی انسانی حقوق کی منظم اور سنگین ترین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی دوسری رپورٹ میں بھی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں اور پامالیوں کے ارتکاب کی حقیقت کو تسلیم کیاگیا ہے۔ رپورٹ میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے نہتے شہریوں کو پیلٹ گن کے استعمال سے معذور اور ہلاک کرنے، ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی حقیقت تسلیم کی گئی ہے۔ نام نہاد گھر گھر تلاشیوں کی آڑ میں کشمیریوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنانے، مظاہرین کی حراستوں، سیاسی نظر بندیوں کا اعتراف کیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ بھارتی قابض افواج کو حاصل اندھے اختیارات اور ظالمانہ کالے قوانین کے ذریعے نہتے کشمیریوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت پبلک سیفٹی ایکٹ کے نام پر کالے قانون کی آڑ میں شہریوں کو ایذارسانی، تشدد کا نشانہ بناتا ہے جبکہ ان کالے قوانین کے تحت قانونی تقاضے اور شواہد کی دستیابی کی لازمی شرط کو کھلم کھلا پامال کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میںکہاگیا کہ شہریوں کی نقل وحرکت، اظہار رائے کی آزادی اور غیرجانبدار صحافیوں کے حقائق اجاگر کرنے کے حقوق پر پابندیاں عائد ہیں۔ ان مقاصد کےلئے آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) اور ’پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) جیسے کالے قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ان سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کوئی قانونی یا تادیبی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ بھارت جبر کے ان ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کی آواز عالمی برادری تک پہنچنے سے روکنے پر کاربند ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply