پاکستان کلچرل فورم ، سی ڈی اے مزدور یونین اور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے زیرِ اہتمام سینیٹر عرفان صدیقی (مرحوم) کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):پاکستان کلچرل فورم ، سی ڈی اے مزدور یونین اور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے زیرِ اہتمام معروف کالم نگار، دانشور، ادیب و سینیٹر عرفان صدیقی (مرحوم) کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب میں وفاقی وزرا،پارلیمینٹرین ،تاجر رہنمائوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نامور شخصیات نے مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عرفان صدیقی مرحوم نے …

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):پاکستان کلچرل فورم ، سی ڈی اے مزدور یونین اور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے زیرِ اہتمام معروف کالم نگار، دانشور، ادیب و سینیٹر عرفان صدیقی (مرحوم) کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب میں وفاقی وزرا،پارلیمینٹرین ،تاجر رہنمائوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نامور شخصیات نے مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عرفان صدیقی مرحوم نے سیاست میں برداشت کے کلچر کو فروٖغ دیا ،دلیل سے بات منوائی ،سیاسی اختلافات کے باوجود دوسروں کی بات تحمل سے سنتے ،آج کے دور میں ہمیں ترقی اور سیاسی ماحول میں تناو کی کمی کیلئے عرفان صدیقی کی زندگی سے سیکھنا ہوگا۔

پی این سی اے میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں ظفر بختاوری نے قرارداد پیش کی کہ اسلام آباد کی کسی سڑک کو عرفان صدیقی کے نام سے منسوب کیا جائےجسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئےپرویز رشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ عرفان صدیقی بہترین ادیب ،کالم نگار،استاد اور سیاستدان تھے،ہمہ جہت شخصیت کے مالک عرفان صدیقی سلیقے سے بات کرنے اور اپنا مطمع نظر سمجھانے کے ماہر تھے،وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ موجود رہیں گے،ان کی شاعری پڑھنے کے قابل ہے ،ان کے لکھے خطوط کسی طور غالب کے خطوط سے کم نہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ بات کرتے کرتے کالم لکھ لیتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی کا ادبی ذوق غالب سے کم نہیں تھا ،مرحوم کا لفظ ان کیلئے لکھنا مناسب نہیں لگتا ،وہ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوئے ہیں لیکن دلوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے شعر سنایا کہ عرفان یہ سچ ہے کہ خوابوں کی تعبیر الٹ ہوجاتی ہے،آغاز محبت میں ہم کو کچھ خواب سہانے آتے تھے۔ ظفر بختاوری نے کہا کہ تناؤ کم کرنے کیلئے ہمیں کئی عرفان صدیقی چاہیں ،وہ میرے اچھے دوست بہترین ادیب ،شاعر کالم نگار اور معتدل سیاستدان تھے،انہیں بات کرنے اور دلیل سے قائل کرنے کا ہنر آتا تھا۔انہوں نے کہا کہ دانش اور حکمت کا پہلو معاشرے سے کم ہوتا جا رہا ہے اس کو پھیلانے کیلئے ہمیں عرفان صدیقی کی زندگی سے سیکھنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی حکمت و دانش کا پیکر تھے ،نواز شریف نے بھی کمال دانشمندی سے رائٹ اور لیفٹ ونگ کے عرفان صدیقی اور پرویز رشید کو اپنے ساتھ رکھا اور یہ دونوں ان کے معتمدخاص ہیں اور ہر مشاورت ان سے کرتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی کا کالم آنے والے کالم نگاروں کیلئے اثاثہ ہے،جداگانہ تحریر کے مالک تھے،اچھی اردو سیکھنے اور پڑھنے کیلئے عرفان صدیقی کے کالم اور تحریروں کو پڑھا جائے۔سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ انہوں نے نصف صدی تک قلم کے ذریعے قوم کی تربیت کی، ان کا ہر کالم علم، تہذیب اور اعلیٰ اقدار کا درس دیتا تھا، ان کی وفات صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ ایک عہد کی رخصتی ہے ، عرفان صدیقی جیسے اہلِ قلم معاشروں کو روشنی دکھاتے ہیں اور قومیں ایسے ہی دانشوروں کے دم سے زندہ رہتی ہیں۔

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے عرفان صدیقی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک ایسے استاد، محقق اور دانشور تھے جنہوں نے فکری استقامت کو ہمیشہ ترجیح دی، ان کی تحریروں میں شرافت، شائستگی اور دلیل کا جذبہ نمایاں تھا، پاکستان کا ادبی منظرنامہ ان کے بغیر ادھورا رہے گا۔صدر آئی سی سی آئی سردار طاہر محمود نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عرفان صدیقی کی تحریریں معاشرتی اخلاقیات کی اصلاح کا ذریعہ تھیں، وہ نوجوان نسل کے لئے مشعلِ راہ تھے، آج پورا ملک ان کی علمی خدمات کو سلام پیش کر رہا ہے۔

چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ عرفان صدیقی مرحوم نے ہر فیصلے میں انصاف اور ایمانداری کو مقدم رکھا، اور عوام کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی،ان کی خدمات اور کردار ہر شخص کے لئے سبق آموز ہیں،مرحوم کے صاحبزادے نعمان صدیقی نے کہا کہ والد محترم ایک جونیئر ٹیچر سے ترقی کرتے ہوئے پروفیسر اور صدر کے پریس سیکرٹری بنے،گھر میں بچوں کے شور کرنے پر کبھی غصہ نہیں ہوئے بلکہ وہ اسی دوران اپنا کالم لکھ لیتے تھے،انہوں نے ہمیشہ ہمیں سکھایا کہ محنت، ایمانداری اور خلوص کے ساتھ خدمت کرنا ہی سب سے بڑی میراث ہے،ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسے والد کے فرزند ہیں جنہوں نے ہر فیصلے میں انصاف اور اصول کو مقدم رکھا اور عوام کے لئے دل سے کام کیا۔انہوں نے کہا کہ والد کی رہنمائی، بصیرت اور اخلاقیات ہمیں ہمیشہ یاد رہیں گی اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہمارا فرض ہے۔