پاکستان کوموسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع مشاورت،بروقت تیاری اور پائیدار ماحولیاتی پالیسیوں کی ضرورت ہے،ڈاکٹر مصدق ملک

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے جامع مشاورت، بروقت تیاری اور پائیدار ماحولیاتی پالیسیوں کو ترجیح دینا ہوگی۔

کراچی ۔11جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیربرائےموسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کوموسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع مشاورت،بروقت تیاری اور پائیدار ماحولیاتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

کراچی کے کلائمیٹ ایکشن سینٹر میں موسمیاتی ماہرین،ماحولیاتی کارکنوں اور میڈیا نمائندوں سے ہاؤس ڈائیلاگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ کراچی ملک کا متنوع ترین شہر ہے اور یہی تنوع ان کے دورے کی اہم وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے قیمتی تجربات اور آراء موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر مؤثر اور قابلِ عمل موسمیاتی پالیسیاں مرتب کی جا سکتی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک میں مون سون کا آغاز ہو چکا ہے،حکومت بارشوں اور ممکنہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے تاکہ مون سون کے عروج سے قبل ضروری اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔انہوں نے بتایا کہ بڑھتےہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے شمالی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خدشہ ہےتاہم ملک کے آبی ذخائر اور ڈیم اضافی پانی ذخیرہ کرنے کی مناسب صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے بارشوں کے دوران پانی کے بہتر انتظام میں مدد ملے گی۔ڈاکٹر مصدق ملک نےخبردار کیا کہ ملک کے بعض علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کے باعث خشک سالی کا خطرہ بھی موجود ہےجبکہ شہری علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ اور موسلادھار بارشیں اربن فلڈنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیلاب اور خشک سالی دونوں زراعت، غذائی تحفظ، بنیادی ڈھانچے، روزگار اور قومی معیشت کے لیے سنگین خطرات ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔ سوال و جواب کے سیشن میں وفاقی وزیر نے کہا کہ محدودوسائل کے باوجود ماحول کے تحفظ اورموسمیاتی لچک کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ مقامی آبادی کو ماحولیاتی مسائل کے حل میں شریک کیے بغیر پائیدار نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔انہوں نے موسمیاتی کارکنوں، محققین اور ماحولیاتی تنظیموں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے افراد اور اداروں کی حوصلہ افزائی اور معاونت ضروری ہے تاکہ پاکستان کی موسمیاتی استعداد مزید مضبوط ہو سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان شمسی اور ہوا سےتوانائی پیدا کرنے کے وسیع مواقع رکھتا ہے۔ قابلِ تجدیدتوانائی کے فروغ کے لیے سازگار پالیسی اور سرمایہ کاری کے ماحول کی ضرورت ہے تاکہ فوسل فیول پر انحصار کم ہو، کوئلے کا استعمال محدود کیا جا سکے، کاربن کے اخراج میں کمی آئے اور ملک کے طویل المدتی موسمیاتی و پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔مکالمے کے اختتام پر وفاقی وزیر، موسمیاتی ماہرین اور میڈیا نمائندوں کے درمیان مختلف تجاویز کا تبادلہ ہواجبکہ حکومت نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کا اعادہ کیا۔