اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں احتیاطی صحت کی سہولیات کے فروغ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان محدود وسائل کی وجہ سے 22 کروڑ آبادی کی صحت کی ضروریات کو علاج معالجے کے طریقوں سے پورا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایوان صدر کے پریس ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت …
پاکستان کو صحت عامہ کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے اہداف پر مبنی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں احتیاطی صحت کی سہولیات کے فروغ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان محدود وسائل کی وجہ سے 22 کروڑ آبادی کی صحت کی ضروریات کو علاج معالجے کے طریقوں سے پورا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ایوان صدر کے پریس ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں ایوان صدر میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی سینیٹ کے چوتھے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی سینیٹ کے اراکین اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ صدر نے کہا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے زیادہ تر بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے، احتیاطی صحت کا طریقہ کار سستا ہے اور یہ بیماریوں کا بوجھ کم کرنے میں مدد دے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صحت عامہ کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے اہداف پر مبنی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ احتیاطی صحت ملکی صحت کی پالیسی کی ترجیح ہونی چاہیے، کچھ ممالک نے احتیاطی صحت پر توجہ اور انسانی وسائل کی فکری ترقی پرسرمایہ کاری سے شعبہ صحت میں زبردست بہتری لائی ہے۔ اجلاس کو گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے بیماریوں کے بوجھ میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اجلاس میں صحت عامہ کے شعبے میں تحقیق اور ترقی کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ ملکی صحت کے پروگراموں اور اکیڈمی کی مستقبل کی مالی ضروریات پورا کرنے کیلئے وسائل متحرک کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں صحت عامہ کے لیے قومی منصوبہ وضع کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے تیسرے سینیٹ اجلاس کے منٹس کی بھی توثیق کی گئی۔








