اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):پاکستان نے عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی بڑھتی ہوئی موجودگی کا ایک اور ثبوت دیتے ہوئے امریکا میں منعقدہ ورلڈ لبرٹی فورم میں فعال شرکت کی۔ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے فورم میں ملک کی نمائندگی کی اور ڈیجیٹل اثاثہ جات سے متعلق پاکستان کے وژن کو عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔ چیئرمین بلال بن ثاقب نے فورم …
پاکستان کی عالمی کرپٹو و مالیاتی فورم میں نمایاں شرکت

مزید خبریں
اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):پاکستان نے عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی بڑھتی ہوئی موجودگی کا ایک اور ثبوت دیتے ہوئے امریکا میں منعقدہ ورلڈ لبرٹی فورم میں فعال شرکت کی۔ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے فورم میں ملک کی نمائندگی کی اور ڈیجیٹل اثاثہ جات سے متعلق پاکستان کے وژن کو عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔
چیئرمین بلال بن ثاقب نے فورم کو عالمی مالیاتی رہنماؤں، کرپٹو اختراع کاروں اور پالیسی سازوں کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عالمی اجتماعات نہ صرف پالیسی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں بلکہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں شفافیت، جدت اور پائیداری کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی وضع کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔فورم میں عالمی شہرت یافتہ مالیاتی اداروں اور پلیٹ فارمز کے نمائندے شریک ہوئے جن میں گولڈمین سکس، نیسڈیک، فرینکلن ٹیمپلٹن اور کوائن بیس سمیت دیگر شامل تھے۔
شرکاء نے ڈیجیٹل مالیات کے مستقبل، ریگولیٹری فریم ورک اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔عالمی مالیاتی فورم کے دوران ’’دی فیوچر آف اسٹیبل کوائنز، ٹوکنائزیشن اور فنانشل انوویشن‘‘ کے موضوع پر خصوصی سیشن منعقد ہوا جس میں اسٹیبل کوائنز کے ضابطہ جاتی پہلوؤں، اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے امکانات اور سرحد پار ادائیگیوں میں بلاک چین ٹیکنالوجی کے کردار پر گفتگو کی گئی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان نے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ سرحد پار ادائیگیوں کے لیے ڈالر سے منسلک اسٹیبل کوائن کے اجراء اور استعمال کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
یہ اقدام پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان کسی خودمختار ریاست کے ساتھ ابتدائی نمایاں تعاون میں شمار کیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثہ جات کی مؤثر تنظیم، جدید مالیاتی نظام کے فروغ اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں فعال و باوقار کردار ادا کرنے کے عزم کی عکاس ہے۔ حکومت کی جانب سے مربوط ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری اور عالمی اداروں کے ساتھ اشتراکِ عمل مستقبل میں سرمایہ کاری، فِن ٹیک جدت اور مالیاتی شمولیت کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔








