پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لئے پرعزم ہیں، دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لئے پرعزم ہیں، اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لئے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی۔پیر کو ایوان بالا میں افغانستان کی صورتحال اور حالیہ دہشت …

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لئے پرعزم ہیں، اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لئے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی۔پیر کو ایوان بالا میں افغانستان کی صورتحال اور حالیہ دہشت گرد حملوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے بنوں اور باجوڑ میں ہونے والے خودکش حملوں کا ذکر کیا جن میں سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ انہوں نے مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک شہید افسر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر ان کے مزید بیٹے بھی فوج میں ہوتے تو وہ انہیں بھی وطن پر قربان کرنے کے لئے تیار ہوتیں۔ وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ شہید کی کمسن بیٹی نے بھی اپنے والد پر فخر کا اظہار کیا اور انہیں اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لئے پرعزم ہیں تاہم قوم صرف جنازے اٹھانے کے لئے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں اور بعض حملہ آوروں اور سہولت کاروں کا تعلق افغان سرزمین سے بتایا گیا ہے۔ انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ 21 فروری کو افغانستان کے صوبوں ننگرہار، پکتیا اور خوست میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کی گئیں جن میں دہشت گرد نیٹ ورک کے مبینہ اہم عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئیں اور ان میں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کو ہدف بنایا گیا۔ وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ان حملوں میں شہری آبادی، مساجد یا مدارس کو نشانہ بنایا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت افغانستان سے آج بھی امن کی خواہاں ہے اور چاہتی ہے کہ دونوں ممالک باہمی تعاون سے دہشت گردی کا خاتمہ کریں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو ملک اپنے حقِ دفاع کے تحت اقدامات جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کمزور سمجھنے والے عناصر کو یہ پیغام مل جانا چاہئے کہ قوم، سیاسی قیادت اور مسلح افواج متحد ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم اور عسکری قیادت کے عزم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے خطاب کے اختتام پر شہداء کے خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ قوم ان قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایک ایک شہری اور سکیورٹی اہلکار کے خون کا حساب لیا جائے گا اور وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کیا جائے گا۔