پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے دوران استحکام کا رجحان برقرار رکھا، پلاننگ کمیشن کی ماہانہ رپورٹ

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے دوران استحکام کا رجحان برقرار رکھا جس کی بنیاد محتاط میکرو اکنامک مینجمنٹ اور مربوط پالیسی اقدامات پر رہی۔ شدید سیلاب کے منفی اثرات کے باوجود مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال …

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے دوران استحکام کا رجحان برقرار رکھا جس کی بنیاد محتاط میکرو اکنامک مینجمنٹ اور مربوط پالیسی اقدامات پر رہی۔ شدید سیلاب کے منفی اثرات کے باوجود مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1.6 فیصد تھی۔ یہ نمایاں اضافہ ملکی معیشت کی بہتری، مضبوطی اور پالیسی اقدامات کی موثر عملداری کا مظہر ہے۔

پلاننگ کمیشن کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق سیلاب سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث ستمبر تا اکتوبر 2025ء کے دوران مہنگائی میں عارضی اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم نومبر 2025ء سے مہنگائی میں کمی کا رجحان شروع ہو گیا جو اشیائے صرف کی فراہمی میں بہتری کا نتیجہ ہے۔ صنعتی سرگرمیوں میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی جہاں بڑے پیمانے کی صنعت کی پیداوار جولائی تا اکتوبر 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 5.0 فیصد بڑھی جبکہ اکتوبر 2025ء میں یہ شرح 8.0 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ اس صنعتی نمو کی وجہ آٹوموبائل، سیمنٹ اور پٹرولیم مصنوعات کے شعبوں نے کی۔بیرونی شعبہ مستحکم رہا جہاں جولائی تا نومبر 2025-26 کے دوران اشیاء و خدمات کی برآمدات میں 1.0 فیصد اضافہ ہوا، حالانکہ سیلاب کے باعث بعض اہم فصلیں متاثر ہوئیں۔

اسی دوران ترسیلات زر میں بھی سال بہ سال نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی کھاتوں کو سہارا ملا۔مالیاتی محاذ پر کارکردگی مضبوط رہی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس وصولیاں جولائی تا دسمبر 2025-26 کے دوران 6.1 کھرب روپے تک پہنچ گئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 5.6 کھرب روپے تھیں۔ بہتر میکرو اکنامک اشاریوں اور مثبت مارکیٹ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دی۔ترقیاتی شعبے میں، سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے انفراسٹرکچر، توانائی، تعلیم، صحت، آبی وسائل اور علاقائی ترقی سمیت ترجیحی شعبوں میں منصوبوں کے ایک وسیع پورٹ فولیو کا جائزہ لیا۔

جولائی تا دسمبر 2025-26 کے دوران وزارتوں اور ڈویژنز نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 314.5 ارب روپے کے منصوبے منظور کیے جن کے مقابلے میں رپورٹ شدہ اخراجات 210 ارب روپے رہے۔پاکستان نے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دیا جن میں زرعی ویلیو چین کی ترقی اور برآمدات میں اضافےکے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت کے ساتھ اشتراک شامل ہے۔ اسی طرح تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے امریکہ کے ساتھ مکالمہ بھی مزید مضبوط کیا گیا۔علاقائی روابط کے اقدامات کے ساتھ مل کر، یہ تمام پیش رفت ایک جامع ترقیاتی ایجنڈے کی عکاس ہے جو کارکردگی، ادارہ جاتی مضبوطی، جدت اور پائیدار و جامع معاشی ترقی پر مرکوز ہے۔