اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ذریعے کینسر سے نمٹنے کےلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کینسر کے 20 ہسپتالوں اور تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کے ملک گیر نیٹ ورک کو اجاگر کیا ہے۔ بدھ کو دفتر خارجہ کے مطابق آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا …
پاکستان کی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ذریعے کینسر سے نمٹنے کیلئے کوششیں قابل تعریف ہیں،ڈی جی آئی اے ای اے رافیل ماریانوگروسی

مزید خبریں
اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ذریعے کینسر سے نمٹنے کےلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کینسر کے 20 ہسپتالوں اور تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کے ملک گیر نیٹ ورک کو اجاگر کیا ہے۔
بدھ کو دفتر خارجہ کے مطابق آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ پاکستان اپنے مینڈیٹ کے تمام شعبوں میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مضبوط بنانے خاص طور پر ”ریز آف ہوپ“ اقدام جیسی سہولیات کو مزید بڑھانے اور زندگی بچانے والی ریڈیو تھراپی اور تشخیصی خدمات تک رسائی کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ کینسر کے باعث بے شمار لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں، پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد کینسر کے باعث لقمہ اجل بن جاتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں یہ تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور صورتحال مسلسل خراب ہورہی ہے، اندازہ ہے کہ 2050ء تک کینسر سے ہونے والی اموات میں 75 فیصد اضافہ ہوجائے گا۔
رافیل ماریانو گروسی نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور ہم یہ اقدامات کررہے ہیں، اسی مقصد کے تحت میں نے آئی اے ای اے کا ”ریز آف ہوپ“ اقدام شروع کیا جس کے تحت ریڈیوتھراپی مشینیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ حکومت پاکستان بھی کینسر کے چیلنج سے نمٹنے کےلئے اقدامات کررہی ہے، پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن (پی اے ای سی) نے ملک میں 20 کینسر ہسپتال قائم کئے ہیں اور ماہر افرادی قوت کو تربیت دی ہے۔
انہوں نے پی اے ای سی کو جدید ترین انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیوتھراپی کے قیام پر مبارکباد دی۔ رافیل ماریانو گروسی نے کہا کہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور میں نے جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے شعبے میں آئی اے ای اے اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے پر بات چیت کی۔
انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران میں نے نوری اور انمول کینسر ہسپتالوں میں تشخیص اور علاج کی سہولیات کا خود مشاہدہ کیا اور مجھے پاکستان کے پہلے سرکاری شعبے کے سائبر نائف مرکز کا افتتاح کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ رافیل ماریانو گروسی نے نوری ہسپتال کو آئی اے ای اے کے ”ریز آف ہوپ“ اینکر سینٹر کے طور پر شراکت داری پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں محفوظ اور موثر ریڈیوتھراپی اور تشخیصی امیجنگ سہولیات تک رسائی کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اسی وقت جان بچانے کا ذریعہ بنتی ہے جب وہ تربیت یافتہ ماہرین کے ہاتھ میں ہو۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اینکر سینٹرز دنیا بھر میں تربیت اور صلاحیت سازی کے لیے ایک اہم علاقائی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو اس اہم سنگ میل پر مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئی اے ای اے کینسر کے بحران سے نمٹنے کےلئے پاکستان کے ساتھ اپنا اہم کام جاری رکھے گا۔








