اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):کاروباری، قانونی اور اصلاحاتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے پاکستان کے ریگولیٹری نظام کو سادہ بنانے اور کاروباروں، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں پر بوجھ کم کرنے کے لیے ایک سادہ اور مربوط ڈیجیٹل کمپلائنس نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس امر کا اظہار جمعہ کو ماہرین نے فریڈم گیٹ پراسپیریٹی (ایف جی پی) اور اسلام آباد چیمبر …
پاکستان کے ریگولیٹری نظام کو سادہ بنانے اور کاروباروں پر بوجھ کم کرنے کے لیے سادہ اور مربوط ڈیجیٹل کمپلائنس نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):کاروباری، قانونی اور اصلاحاتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے پاکستان کے ریگولیٹری نظام کو سادہ بنانے اور کاروباروں، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں پر بوجھ کم کرنے کے لیے ایک سادہ اور مربوط ڈیجیٹل کمپلائنس نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس امر کا اظہار جمعہ کو ماہرین نے فریڈم گیٹ پراسپیریٹی (ایف جی پی) اور اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز کے اشتراک عمل سے منعقدہ مشاورتی اجلاس کے موقع پر کیا۔اس اہم مشاورت میں پالیسی ماہرین، قانونی ماہرین، صنعت و تجارت کے نمائندگان اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ افراد نے #UnlockPakBusiness اقدام کے تحت عملی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا۔
فریڈم گیٹ پراسپیریٹی (ایف جی پی)کے سی ای او محمد انور نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ طریقہ کار اور مختلف اداروں سے جڑی ریگولیٹری شرائط سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف جی پی شواہد پر مبنی اصلاحات کے ذریعے کاروباری رکاوٹوں کو کم کرنے اور سازگار کاروباری ماحول کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔ آئی سی ایس ٹی ایس آئی کے صدر اویس ستی نے تاجروں اور کاروباری افراد کو درپیش مسائل کی نشاندہی کے لیے مؤثر پبلک پرائیویٹ ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ضوابط میں سادگی اور ڈیجیٹل انضمام سے کاروبار میں آسانی اور معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ مل سکتا ہے۔
پرائم انسٹی ٹیوٹ پاکستان کے سی ای او ڈاکٹر علی سلمان نے کہا کہ غیر مؤثر ریگولیشنز معیشت کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں جبکہ غیر ضروری کمپلائنس اخراجات میں کمی سے کاروباری نمو اور علاقائی مسابقت بہتر ہو سکتی ہے۔ریگولیٹری اصلاحات کے ماہر محسن ملک نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں کاروبار متعدد اداروں اور پیچیدہ نظام کے تحت کام کر رہے ہیں جس میں بہتری لانےکے لیے مربوط اصلاحات اور ایک سادہ ڈیجیٹل فریم ورک ناگزیر ہے۔
آئی سی ایس ٹی ایس آئی کی سسٹینیبل ڈویلپمنٹ کمیٹی کے چیئرمین شیر محمد نے کاروباروں پر کمپلائنس کے بوجھ سے متعلق تکنیکی بریفنگ دیتے ہوئے ایک متحدہ ڈیجیٹل گیٹ وے کا تصور پیش کیا جبکہ اسد تیمور، سردار ظہیر احمد اور ڈاکٹر ضیاء اللہ رنجھا نے قانونی پیچیدگیوں اور متعدد رجسٹریشن تقاضوں سے متعلق عملی مسائل اجاگر کیے اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل آف بلوچستان امجد خان اچکزئی نے کم ترقی یافتہ علاقوں میں اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کو نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کم کرنے کےلئے اہم قرار دیا۔








