پاکستان کے عمر احمد آئی ایم ایم اے ایف پولیس سپورٹس کمیشن کے رکن منتخب

اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):پاکستان کے معروف ایم ایم اے پروموٹر اور سکیورٹی ماہر عمر احمد کو انٹرنیشنل مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن (IMMAF) کے پولیس سپورٹس کمیشن کا رکن منتخب کر لیا گیا ہے جبکہ انہیں آئی ایم ایم اے ایف سسٹین ایبلٹی ایوارڈز کیلئے بھی نامزد کیا گیا ہے، یہ پاکستان کیلئے عالمی کھیلوں کی گورننس میں ایک نمایاں کامیابی ہے۔عمر احمد ،جو حال ہی میں جنوبی ایشیا کے …

اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):پاکستان کے معروف ایم ایم اے پروموٹر اور سکیورٹی ماہر عمر احمد کو انٹرنیشنل مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن (IMMAF) کے پولیس سپورٹس کمیشن کا رکن منتخب کر لیا گیا ہے جبکہ انہیں آئی ایم ایم اے ایف سسٹین ایبلٹی ایوارڈز کیلئے بھی نامزد کیا گیا ہے، یہ پاکستان کیلئے عالمی کھیلوں کی گورننس میں ایک نمایاں کامیابی ہے۔عمر احمد ،جو حال ہی میں جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر منتخب ہوئے تھے، اب پاکستان کی نمائندگی ایک ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کر رہے ہیں جو ایم ایم اے فیڈریشن کو دنیا بھر کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جوڑتا ہے۔

اس کمیشن کا مقصد پولیس ٹریننگ میں مارشل آرٹس اور فائٹنگ ٹیکنیکس کو شامل کرنا ہے تاکہ افسران کی جسمانی فٹنس، نظم و ضبط اور دباؤ میں اعتماد بہتر بنایا جا سکے جبکہ مختلف خطوں کی پولیس فورسز کے درمیان بین الاقوامی مقابلوں اور تبادلوں کو فروغ دیا جا سکے۔لندن سے تعلیم یافتہ عمر احمد کے پاس سٹریٹیجک کمیونیکیشن اور سکیورٹی اینڈ رسک مینجمنٹ میں دو ماسٹر ڈگریاں ہیں۔ وہ سکیورٹی، سپورٹس اور انٹرپرینیورشپ کے شعبوں میں شاندار کیریئر رکھتے ہیں۔ انہوں نے ٹرین ٹو سیکیور (Train2Secure) کے نام سے کمپنی قائم کی جو لندن اولمپکس کی بڑی سکیورٹی کنٹریکٹر رہی۔

بعد ازاں وہ پاکستان واپس آئے اور پارویسٹ سکیورٹی کے سربراہ کے طور پر ملک کی بڑی سکیورٹی کمپنیوں میں سے ایک کی قیادت سنبھالی۔ان کی سماجی خدمت پر مبنی کاوش ریئل فائٹ پراجیکٹ کو IMMAF سسٹین ایبلٹی ایوارڈز کیلئے نامزد کیا گیا، جو نوجوانوں کی ذہنی صحت، نظم و ضبط اور قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کیلئے مارشل آرٹس کو بطور پلیٹ فارم استعمال کرتا ہے۔

عمر احمد نے پاکستان کے ایس ایس جی کمانڈوز اور نیشنل پولیس اکیڈمی کیلئے غیر مسلح جنگی تربیت (Unarmed Combat Training) پروگرامز تیار کیے، جن میں ایم ایم اے کی جدید تکنیکوں کو شامل کیا گیا تاکہ افسران کی جسمانی اور نفسیاتی مضبوطی میں اضافہ ہو۔انہوں نے نہ صرف ادارہ جاتی سطح پر کام کیا بلکہ ذاتی طور پر پاکستانی فائٹرز کی مالی معاونت کی اور انہیں ایشین اور ورلڈ ایم ایم اے چیمپئن شپس میں شرکت کے مواقع فراہم کیے۔

کئی مواقع پر انہوں نے خود سفارتی ویزا مسائل حل کر کے پاکستانی فائٹرز کی بین الاقوامی نمائندگی یقینی بنائی۔ان کی قیادت میں پاکستان نے جارجیا میں منعقدہ IMMAF ورلڈ چیمپئن شپ میں دو تمغے جیتے حالانکہ اس وقت ملک سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل تھا۔

عمر احمد کے عالمی تعلقات اور عزم نے پاکستانی فائٹرز کیلئے روس، بحرین اور یو اے ای جیسے ممالک میں مقابلوں کے دروازے کھول دیے، ان کی تازہ تعیناتی کے بعد، عمر احمد پاکستان کی مارشل آرٹس کمیونٹی کے عالمی سفیر بن گئے ہیں، جن کا مقصد ایک خود کفیل ایم ایم اے اکانومی تشکیل دینا ہے تاکہ یہ کھیل پاکستان میں روزگار، نظم و ضبط اور قومی فخر کا ذریعہ بن سکے۔

مزید خبریں