اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی محمد آصف صاحبزادہ نے کہا ہے کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسز کے کم اخراج کے باوجود شدید موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہا ہےجن میں ہیٹ ویوز، غیر متوقع بارشیں اور سیلاب شامل ہیں، حکومت جامع حکمتِ عملی کے تحت ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن، ابتدائی وارننگ سسٹمز، شجرکاری اور گرین انفراسٹرکچر کے فروغ پر کام کر رہی ہے، …
پاکستان گرین ہاؤس گیسز کے کم اخراج کے باوجود شدید موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہا ہے ، محمد آصف صاحبزادہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی محمد آصف صاحبزادہ نے کہا ہے کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسز کے کم اخراج کے باوجود شدید موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہا ہےجن میں ہیٹ ویوز، غیر متوقع بارشیں اور سیلاب شامل ہیں، حکومت جامع حکمتِ عملی کے تحت ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن، ابتدائی وارننگ سسٹمز، شجرکاری اور گرین انفراسٹرکچر کے فروغ پر کام کر رہی ہے، جبکہ 2022 کے سیلاب کے بعد بحالی منصوبوں میں موسمیاتی مزاحمت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے اور عالمی تعاون پر زور دیا گیا ہے۔
منگل کو ’’اے پی پی‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہےحالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں ہمارا حصہ نہایت کم ہے، درجہ حرارت میں اضافہ، غیر متوقع بارشیں، شدید ہیٹ ویوز، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور سیلاب و خشک سالی جیسے واقعات ہماری معیشت، زراعت اور انسانی سلامتی کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع اور مربوط حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے قومی سطح پر ماحولیاتی پالیسی سازی، موسمیاتی موافقت (ایڈاپٹیشن) اور تخفیفِ اثرات (مِٹی گیشن) کے اقدامات کو ترجیح دی ہے۔ پاکستان نے عالمی معاہدوں کے تحت اپنے نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز (این ڈی سیز) کو اپ ڈیٹ کیا ہے اور کم کاربن ترقی کی سمت واضح روڈ میپ پیش کیا ہے۔
محمد آصف صاحبزادہ نے بتایا کہ وزارت نے قدرتی ماحولیاتی نظام کےتحفظ، شجرکاری، ویٹ لینڈزکےاحیا ،جنگلات کے فروغ اور آبی وسائل کے بہتر انتظام کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں،صوبوں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے موسمیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس) بڑھانے، شہری علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور گرین انفراسٹرکچر کو فروغ دینے پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد حکومت نے’’بلڈ بیک بیٹر‘‘ کے اصول کے تحت بحالی اور تعمیرِ نو کےمنصوبوں میں موسمیاتی مزاحمت کو بنیادی جزو بنایا ہے،ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور کمیونٹی کی سطح پر آگاہی پروگرامز کو وسعت دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی انصاف کا مضبوط داعی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مالی معاونت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار میں اضافے کے وعدے پورے کرے۔ حکومت اس عزم پر قائم ہے کہ پائیدار ترقی، صاف توانائی، گرین روزگار اور ماحول دوست پالیسیوں کے ذریعے پاکستان کو موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور محفوظ بنایا جائے گا۔








