پاک سعودی اقتصادی راہداری: ایس آئی ایف سی کی کاوشوں کا نیا سنگِ میل

ضیاء الامین اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):پاکستان میں عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے قائم اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل (SIFC) کی کوششیں بارآور ثابت ہو رہی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ایس آئی ایف سی کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا بلکہ پاکستان کو ایک نئے علاقائی اقتصادی مرکز کے طور پر اجاگر کیا ہے۔سعودی عرب کے ویژن 2030 اور …

ضیاء الامین

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):پاکستان میں عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے قائم اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل (SIFC) کی کوششیں بارآور ثابت ہو رہی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ایس آئی ایف سی کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا بلکہ پاکستان کو ایک نئے علاقائی اقتصادی مرکز کے طور پر اجاگر کیا ہے۔سعودی عرب کے ویژن 2030 اور پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کی بنیاد پر اقتصادی راہداری کی منصوبہ بندی جاری ہے۔پاکستان اور سعودی عرب تاریخی دفاعی معاہدہ کے بعد پاک سعودی اکنامک کوریڈور کا قیام زیر غور ہے۔پاک سعودی شراکت داری گوادر پورٹ کے ذریعے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی کے روابط کا نیا سنگِ میل ہے۔

پاک سعودی اکنامک کوریڈور سی پیک کی طرز پر ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔پاک سعودی اکنامک کوریڈور خطے میں سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کا ضامن ہے۔رواں مالی سال میں پاکستان کی سعودی عرب کو برآمدات 700 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔سعودی سرمایہ کار زراعت، کان کنی، توانائی اور آئی ٹی کے شعبے میں اقتصادی روابط مضبوط کرنے کے خواہشمند ہیں۔ماہرین اقتصادیات کے مطابق نیا معاہدہ سرمایہ کاروں کو طویل المدتی سرمایہ کاری کیلئے اعتماد فراہم کرے گا۔

یہ اہم منصوبہ کارپوریٹ فارمنگ، ڈیری اور گوشت کی پیداوار کے منصوبوں کی راہ ہموار کر یگا۔پاک سعودی اقتصادی تعاون کے ذریعے حکومت اور ایس آئی ایف سی نے معاشی استحکام کے لیے اقدامات تیز کر دیئے ہیں۔ایس آئی ایف سی کے موثر کردار نے زراعت، کان کنی، توانائی اور آئی ٹی کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ پاکستان نے اپنی معاشی پالیسیوں میں شفافیت، ریگولیٹری اصلاحات اور کاروبار دوست اقدامات کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال میں سعودی عرب کو پاکستانی برآمدات 700 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ اس اضافے کو ماہرین دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کا مظہر قرار دے رہے ہیں۔وژن 2030 اور پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات سعودی عرب کا وژن 2030 اور پاکستان کی ترقیاتی حکمتِ عملی 2035 خطے میں پائیدار ترقی اور معاشی تنوع کے لیے ہم آہنگ مقاصد رکھتے ہیں۔

سعودی وژن 2030 کا بنیادی مقصد تیل پر انحصار کم کرکے متنوع معیشت کی تشکیل ہے، جبکہ پاکستان انفراسٹرکچر، زراعت، اور صنعت میں سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار اور پیداواریت بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔اسی تناظر میں، دونوں ممالک نے باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے ایک نئے "پاک سعودی اکنامک کوریڈور” کے قیام پر غور شروع کر دیا ہے۔

یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی طرز پر سرمایہ کاری، تجارت، توانائی اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔مجوزہ پاک سعودی اقتصادی راہداری (PSEC) کا بنیادی مقصد جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی کے درمیان تجارتی و لاجسٹک روابط کو مضبوط بنانا ہے۔

گوادر پورٹ اس راہداری کا مرکزی نقطہ ہوگا، جو مستقبل میں عرب دنیا، وسط ایشیا اور چین کے درمیان ایک اسٹریٹجک کنکشن پوائنٹ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ راہداری نہ صرف خطے میں سرمایہ کاری کے فروغ کا باعث بنے گی بلکہ روزگار کے مواقع، صنعتی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے بھی سنگِ میل ثابت ہو گی۔ اس منصوبے سے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ، ڈیری، گوشت اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

مزید خبریں