پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی رومانیہ کی فضائیہ کے سربراہ لیفٹیننٹ سے ملاقات

راولپنڈی۔22اکتوبر (اے پی پی):پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے رومانیہ کے سرکاری دورے کے دوران رومانیہ کی فضائیہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل لیونارڈ گیبریل بارابوئی سے ملاقات کی، اس دورے میں دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے اور دونوں فضائی افواج کے درمیان تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ بدھ کو آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے …

راولپنڈی۔22اکتوبر (اے پی پی):پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے رومانیہ کے سرکاری دورے کے دوران رومانیہ کی فضائیہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل لیونارڈ گیبریل بارابوئی سے ملاقات کی، اس دورے میں دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے اور دونوں فضائی افواج کے درمیان تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

بدھ کو آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق رومانیہ کی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر رومانیہ کی فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ بعد ازاں ائیر چیف نے لیفٹیننٹ جنرل لیونارڈ گیبریل بارابوئی کے ساتھ مشترکہ فضائی مشقوں، تبادلہ پروگراموں اور فضائی اور زمینی عملے کی تربیت سمیت آپریشنل تعاون کو آگے بڑھانے پر تفصیلی بات چیت کی۔

انہوں نے علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور عالمی اور علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے میں دوطرفہ تعاون کی اہمیت کا اعادہ کیا۔لیفٹیننٹ جنرل لیونارڈ گیبریل بارابوئی نے بھارتی جارحیت کے خلاف حالیہ کامیابیوں میں پاک فضائیہ کی پیشہ وارانہ مہارت کی تعریف کی۔ انہوں نے ائیر چیف کی بصیرت انگیز قیادت میں خود انحصاری اقدامات کے ذریعے حاصل کی گئی پاک فضائیہ کی کامیابیوں کا بھی اعتراف کیا۔ انہوں نے مشترکہ فضائی دفاعی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے پائیدار تعاون کے لئے مضبوط ادارہ جاتی میکانزم بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

ملاقات کے دوران فریقین نے دونوں ممالک کی فضائیہ کے درمیان تعاون کو وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا اور جدید ایرو اسپیس ٹیکنالوجیز میں دفاعی صنعتی شراکت داری قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔چیف آف دی ائیر سٹاف کا رومانیہ کا یہ دورہ پاکستان اور رومانیہ کے فوجی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتا ہے جو تیزی سے ابھرتے ہوئے سکیورٹی ماحول میں امن، ترقی اور فوجی تعاون کے لئے دونوں ممالک کے پائیدار عزم کو اجاگر کرتا ہے۔