پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 24 مئی (اے پی پی) وزارت پانی و بجلی کی طرف سے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے 480 ارب روپے کا گردشی قرضہ ادا کیا جو دوبارہ 401 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ سبسڈی روکنے کے باعث گردشی قرضوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ لائن لاسز میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ اس سال دسمبر تک 5447 میگاواٹ بجلی …

اسلام آباد ۔ 24 مئی (اے پی پی) وزارت پانی و بجلی کی طرف سے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے 480 ارب روپے کا گردشی قرضہ ادا کیا جو دوبارہ 401 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ سبسڈی روکنے کے باعث گردشی قرضوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ لائن لاسز میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ اس سال دسمبر تک 5447 میگاواٹ بجلی سسٹم میں داخل ہو جائے گی۔ پی اے سی نے وزارت پانی و بجلی کی طرف سے گردشی قرضوں، ترسیلاتی نقصانات اور لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے لئے بجلی کی قیمت میں اضافہ درست نہیں کیونکہ پٹرول کی قیمت ماضی کے مقابلے میں آدھی ہو چکی ہے اور لائن لاسز میں بھی کمی آئی ہے اس کے باوجود عوام پر بوجھ ڈالنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان سمیت وزارت پانی و بجلی اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ وزارت پانی و بجلی کی طرف سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت گردشی قرضے 400 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کی مد میں 237 ارب روپے، گیس کی مد میں 11 ارب روپے اور تیل کی مد میں 99 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔ اس وقت بجلی کی پیداواری لاگت 8 روپے 52 پیسے فی یونٹ ہے۔ صارفین کو 11 روپے 97 پیسے فی یونٹ دی جا رہی ہے۔

Leave a Reply