پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 سے متعلق گمراہ کن میڈیا رپورٹس پر پی پی آر اے کی وضاحت،سرکاری اداروں کو بغیر بولی ٹھیکے دینے کا تاثر غلط قرار
پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 سے متعلق گمراہ کن میڈیا رپورٹس پر پی پی آر اے کی وضاحت،سرکاری اداروں کو بغیر بولی ٹھیکے دینے کا تاثر غلط قرار

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) نے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 سے متعلق میڈیا کے بعض حصوں میں شائع ہونے والی رپورٹس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نئے قواعد کے تحت سرکاری اداروں کو بغیر مسابقتی بولی کے ٹھیکے دینے کی عمومی ترجیح کا تاثر بالکل بے بنیاد اور غلط ہے۔ اتھارٹی نے اپنی باضابطہ وضاحت میں کہا ہے کہ میڈیا میں یہ غلط دعویٰ کیا گیا کہ حکومت نے نئے رولز صرف انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط پوری کرنے کے لیے جاری کیے ہیں جبکہ سرکاری اداروں کو بغیر بولی ترجیح دینے کا سلسلہ برقرار رکھا گیا ہے۔
پی پی آر اے کے مطابق یہ تاثر قطعی غلط ہے کیونکہ پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 دراصل سال 2024 میں وزیراعظم کے معاشی گورننس ریفارمز کے تحت شروع کیے گئے جامع روڈ میپ کا حصہ ہیں، جن کا مقصد محض آئی ایم ایف شرائط پر عملدرآمد نہیں بلکہ پاکستان کے سرکاری خریداری کے نظام کو جدید، شفاف، جوابدہ اور بین الاقوامی بہترین معیار سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ پی پی آر اے نے واضح کیا کہ نئے قواعد کے تحت اوپن کمپٹیٹو بڈنگ (او سی بی) ہی خریداری کا بنیادی اور لازمی طریقہ ہے۔
رول 15(4) کے تحت اگر کوئی ادارہ اوپن بڈنگ کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرے گا تو اسے اس کی ٹھوس تحریری وجوہات دینا ہوں گی۔ جہاں تک رول 32(1)(f) کا تعلق ہے، تو اس کے تحت سرکاری اداروں (SOEs) کے ساتھ براہِ راست معاہدہ صرف انتہائی مخصوص اور غیر معمولی حالات میں ممکن ہوگا اور یہ شق کسی قسم کی عمومی ترجیح پیدا نہیں کرتی۔ یہ استثنیٰ صرف وقت کے لحاظ سے انتہائی حساس، دور دراز یا بکھرے ہوئے مقامات پر عوامی مفاد کے کاموں کے لیے ہی سخت شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔ اتھارٹی کے مطابق تمام وفاقی خریداریوں اور براہِ راست معاہدوں کے لیے ای-پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اگر کسی کام کے لیے ایک سے زائد سرکاری ادارے اہل ہوں تو لمیٹڈ ٹینڈرنگ کے ذریعے مقابلہ کرانا اور قیمت کا معقول ہونا یقینی بنانا لازم ہوگا۔ مزید برآں، پروکیورنگ ادارے کے سربراہ کو ای پی اے ڈی ایس پر باقاعدہ انڈرٹیکنگ جمع کرانا ہوگی تاکہ شق کے غلط استعمال کا راستہ روکا جا سکے۔
پی پی آر اے نے مزید بتایا کہ نئے نظام میں بڑے خریداری معاملات کے لیے تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ، بلیک لسٹنگ، کراس ڈیبارمنٹ اور غلط خریداری پر تادیبی کارروائیوں کا سخت فریم ورک بنایا گیا ہے۔ شفافیت کو فروغ دینے کے لیے سالانہ پروکیورمنٹ پلان، بولیوں کے نتائج اور کنٹریکٹ ایوارڈ کی دستاویزات ای پی اے ڈی ایس اور متعلقہ ویب سائٹس پر شائع کرنا لازم کر دیا گیا ہے تاکہ عوامی وسائل کا تحفظ اور قومی اداروں کی ساکھ مضبوط ہو سکے۔








