پروفارما ترقی پر بقایاجات کا حق تسلیم، سپریم کورٹ نے واپڈا کی اپیلیں خارج کردیں

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی ملازم کو بغیر کسی قصور کے ترقی سے محروم رکھا گیا ہو اور بعد ازاں اسے سابقہ تاریخ سے پروفارما ترقی دی جائے تو وہ اعلیٰ عہدے کی تنخواہ اور الاؤنسز کے بقایاجات کا بھی حق دار ہوگا۔ عدالت نے واپڈا کی جانب سے دائر کی گئی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبونل …

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی ملازم کو بغیر کسی قصور کے ترقی سے محروم رکھا گیا ہو اور بعد ازاں اسے سابقہ تاریخ سے پروفارما ترقی دی جائے تو وہ اعلیٰ عہدے کی تنخواہ اور الاؤنسز کے بقایاجات کا بھی حق دار ہوگا۔ عدالت نے واپڈا کی جانب سے دائر کی گئی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحيیٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے، نے 15 جنوری 2026 کو مقدمات کی سماعت کے بعد تفصیلی حکم جاری کیا۔

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ٹریبونل کے 11 ستمبر 2024 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں متعدد ملازمین کی سروس اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں پروفارما ترقی کے نتیجے میں بقایاجات ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔عدالتی حکم کے مطابق 1992 میں تربیلا پاور اسٹیشن کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے بعد اسٹیشن ون اور اسٹیشن ٹو کے ملازمین کی علیحدہ علیحدہ سینیارٹی فہرستیں مرتب کی گئیں، جس کے باعث ترقیوں اور سلیکشن گریڈ کے معاملات میں تنازعات پیدا ہوئے۔

بعد ازاں عدالتی کارروائی کے نتیجے میں مشترکہ سینیارٹی فہرست تیار کی گئی، جس سے کئی ملازمین کی سابقہ تاریخ سے ترقی کا حق تسلیم ہوا۔ملازمین کو پروفارما ترقی تو دے دی گئی، تاہم انہوں نے 5 جنوری 2022 کو درخواست دے کر اعلیٰ عہدے کی تنخواہ اور الاؤنسز کے بقایاجات بھی طلب کیے۔ واپڈا نے 2 مارچ 2022 کو دفتری یادداشت کی بنیاد پر یہ مؤقف اپنایا کہ سابقہ مدت کے بقایاجات ادا نہیں کیے جا سکتے۔

واپڈا کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ادارے کو اپنے قانون کے تحت سروس شرائط مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے اور ایک دفتری یادداشت کے ذریعے واضح کیا جا چکا ہے کہ سابقہ تاریخ سے دی گئی پروفارما ترقی پر بقایاجات ادا نہیں ہوں گے۔ مزید یہ کہ 20 مئی 2022 کی ترمیم کے ذریعے بنیادی قاعدہ 17(1) کی متعلقہ شق ختم کر دی گئی ہے، لہٰذا بقایاجات کا دعویٰ برقرار نہیں رہتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملازمین نے اپنا حق 20 مئی 2022 سے قبل استعمال کیا اور ان کی درخواست محکمانہ سطح پر اسی تاریخ سے پہلے مسترد ہو چکی تھی، اس لیے بعد کی ترمیم کا اطلاق ماضی پر نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ بنیادی قواعد کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور واپڈا کے ملازمین سروس معاملات میں سول سرونٹس کے زمرے میں آتے ہیں، لہٰذا وہ ان قواعد کے تحت دستیاب تحفظات سے فائدہ اٹھانے کے حق دار ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ بنیادی قاعدہ 17(1) کی سابقہ شق کا مقصد یہ تھا کہ اگر کسی ملازم کو انتظامی غلطی یا تاخیر کے باعث ترقی سے محروم رکھا گیا ہو تو اسے مالی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ اس لیے ایسے ملازمین کو پروفارما ترقی کے ساتھ بقایاجات بھی دیے جا سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے واپڈا کی سول پٹیشنز خارج کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا، جس کے نتیجے میں متعلقہ ملازمین کو سابقہ تاریخ سے ترقی کے مکمل مالی فوائد حاصل ہوں گے۔