اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف میں واقعی اخلاقی جرات تھی توانہیں چاہیے تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف پرعدلیہ یا حکومت پر اثر انداز ہونے کے الزامات اس وقت لگاتے جب وہ کرسی پر موجود تھے، پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے …
پرویز مشرف میں واقعی اخلاقی جرات تھی تو جنرل راحیل شریف پرعدلیہ یا حکومت پر اثر انداز ہونے کے الزامات اس وقت لگاتے جب وہ کرسی پر موجود تھے،وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف میں واقعی اخلاقی جرات تھی توانہیں چاہیے تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف پرعدلیہ یا حکومت پر اثر انداز ہونے کے الزامات اس وقت لگاتے جب وہ کرسی پر موجود تھے، پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تو پرویز مشرف کو (ای سی ایل) ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا ہوا تھا لیکن انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست جمع کرائی کہ مجھے باہر جانے دیا جائے اور یہ جو آﺅٹ سٹینڈنگ مقدمات ہیں یہ میرے ملک سے باہر آنے جانے کے راستے میں رکاوٹ نہیں ہونے چاہیئں، جس کے اوپر سندھ ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ دیا کہ حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ پرویز مشرف کو ای سی ایل میں ڈالیں اور ان کے باہر آنے جانے پر پابندی لگائیں، اس کے بعد موجودہ حکومت نے فوری طور پر سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر دی لیکن جب سپریم کورٹ سے بھی حکومت کی اس رٹ کو خارج کر دیا گیا اور ججوں نے یہ فیصلہ کیا کہ واقعی ان کے آنے جانے کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے تو پھر حکومت کے پاس کوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ عدلیہ کا فیصلہ نہ مانے، ایک سوال کے جواب میں ترجمان وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کو سندھ ہائی کورٹ سے ریلیف ملا، انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف جنہوں نے اپنے تین سال بطور آرمی چیف اتنے شاندار طریقے سے گزارے جن کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے اس لیے ان کے چلے جانے کے بعد اب ان کے بارے میں ایسا کہنا مناسب نہیں اور کیا ہی مناسب ہوتا جب پرویز مشرف جنرل راحیل شرف پر یہ الزامات اس وقت لگاتے جب وہ کرسی پر بیٹھے تھے تاکہ وہ ان کے ان الزامات کا جواب بھی دیتے۔








